سوال 7472

غسل میت کا درست طریقہ کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح میت کو غسل دیا ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
تفصیلی چیزوں سے یہ طریقہ آپ کو کسی کتاب یا کسی براہِ راست استاد کے سامنے بیٹھ کر زیادہ اچھی طرح حاصل ہوگا۔ مختصراً یہ ہے کہ جیسے انسان خود غسل کرتا ہے، ویسے ہی میت کو غسل دینا ہے۔
پہلا مرحلہ یہ ہے کہ میت کے کپڑے اس طرح اتارے جائیں کہ اس کا ستر محفوظ رہے۔ کپڑا ڈال کر اس کے پیٹ کو دبا کر اگر کوئی غلاظت وغیرہ ہو تو اسے نکالا جائے اور استنجا کروایا جائے۔ استنجے کے لیے ایک لفافہ سا ہوتا ہے، کفن کے اندر وہ پہن لیا جائے۔
اس کے بعد میت کو وضو کروایا جائے گا، جیسے ایک زندہ اور جاگتے ہوئے انسان کو وضو کروایا جاتا ہے۔
پھر اس کو غسل دیا جائے گا۔ پہلے دائیں طرف سے اس کے جسم کو دھونا ہے، بڑے نرم ہاتھوں کے ساتھ۔ صابن ہو تو صابن کے ساتھ، صرف پانی ہو تو پانی کے ساتھ۔ بیری کے پتوں والا پانی ہو تو وہ بھی صحیح ہے، اور کافور والا پانی ہو تو وہ بھی صحیح ہے۔
اس کے بعد بائیں طرف سے غسل دیا جائے گا، پھر پورے جسم کو دھویا جائے۔ ایک دفعہ ہو جائے، دو دفعہ ہو جائے، تین دفعہ ہو جائے؛ البتہ یہاں طاق عدد کا ذکر روایات میں ملتا ہے، اس لیے تین مرتبہ غسل دینا بہتر ہے اور پوری باڈی کو صحیح سے دھو دیا جائے۔
آخر میں کافور کا ذکر بعض روایات میں آتا ہے۔ اگر پہلے سے کافور ڈال لیں تو بھی ٹھیک ہے، بعد میں کافور لگائیں تو بھی ٹھیک ہے۔
تو بس اس طریقے سے میت کو غسل دیا جائے گا، جیسے انسان خود اپنا غسل کرتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ