سوال 7439

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم حدیث قلتین کا مسئلہ سمجھا دیں؟
کیا قلتین سے کم پر نجاست اثر انداز ہوجاتی ہے چاہے پھر اوصاف ثلاثہ میں تبدیلی ہو یا نہ ہو اور کیا قلتین اور اس سے زائد میں نجاست صرف اوصاف ثلاثہ کی تبدیلی سے ہی اثر انداز ہوتی ہے۔
ماء جاری ناپاک ہوتا ہے یا نہیں ماء دائم کب ناپاک ہوتا ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قلتین کے بارے میں پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ قلتین سے مراد کیا ہے اور اس کا وزن کتنا بنتا ہے؟ کیا اس سے مراد قلالِ ہَجَر ہیں یا کچھ اور؟ واللہ اعلم، اس وقت کوئی صحیح بات مستحضر نہیں ہے کہ یہ 270 کلو ہے یا کتنا کلو۔ بہرحال پہلے اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ آپ اسے تلاش کر لیں، یا قریب کے کسی عالم سے پوچھ لیں، یا ہمارے کسی شیخ کی طرف سے اس کی وضاحت ہو جائے تو بہتر ہے۔
جہاں تک پانی پر نجاست کے اثر انداز ہونے کا تعلق ہے تو جب تک پانی کے اوصاف تبدیل نہ ہوں، صرف وہم کی وجہ سے پانی کو ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا۔ تینوں اوصاف کا بدلنا ضروری نہیں؛ بلکہ اگر نجاست کی وجہ سے ایک وصف بھی تبدیل ہو جائے، خواہ اس کا رنگ بدلے، بو بدلے یا ذائقہ بدلے، تو پانی نجس کے حکم میں ہوگا۔ لیکن اگر نجاست کی وجہ سے کوئی وصف تبدیل نہیں ہوا تو بلا وجہ وہم میں نہیں پڑنا چاہیے، چاہے پانی کھلا ہی کیوں نہ ہو۔
بالخصوص اگر پانی کثیر مقدار میں ہو تو اس معاملے میں مزید احتیاط یہی ہے کہ محض شک کی بنیاد پر اسے ناپاک قرار نہ دیا جائے۔
مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ بار بار یہی تکرار کی جا رہی ہے کہ اوصافِ ثلاثہ، یعنی رنگ، بو اور ذائقہ تینوں کے تبدیل ہونے سے ہی پانی متاثر ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے کہ شریعت نے یہ تین چیزیں بیان کی ہیں، لیکن ان تینوں کا بیک وقت بدلنا ضروری نہیں۔ اگر نجاست کی وجہ سے رنگ بدل گیا، یا ذائقہ بدل گیا، یا بو بدل گئی، تو پانی ناپاک ہوگا۔
البتہ اگر کسی پاک چیز کے ملنے سے پانی کا رنگ یا ذائقہ بدل جائے، مثلاً اس میں روح افزا ڈال دیا جائے، تو ظاہر سی بات ہے کہ رنگ بھی بدل جائے گا اور ذائقہ بھی، لیکن اس سے پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ البتہ پھر وہ طاہر رہے گا، مطہر نہیں رہے گا، اور اس کے بعد اس پر الگ بحث ہوگی۔
باقی رہا ماء جاری تو حدیث میں آتا ہے کہ اگر پانی چلتا ہوا ہو تو پھر وہ محض نجاست کے پڑنے سے نجس نہیں ہوتا۔ چلتے ہوئے اور وافر مقدار کے پانی کی مثال عام طور پر دریاؤں، نہروں اور بڑے نالوں کی ہے۔ ایسا پانی مسلسل جاری رہتا ہے اور نجاست اس میں ٹھہرتی نہیں، اس لیے وہ پاک قرار دیا جاتا ہے۔
ضرورت کے وقت اس کے کنارے کپڑے وغیرہ دھوئے جا سکتے ہیں، اگرچہ وہاں بول و براز کرنا مناسب نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پانی جاری اور وافر ہو۔
اور ماء دائم، یعنی رکا ہوا پانی، اس میں اصول یہی ہے کہ اگر نجاست کی وجہ سے اس کے اوصاف میں تبدیلی واقع ہو جائے تو وہ ناپاک ہوگا؛ بصورتِ دیگر محض شک و شبہ کی بنیاد پر اسے ناپاک نہیں کہا جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ