سوال 7295

رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا:
جو شخص کثرت سے لا حول ولا قوة الا باللہ’ پڑھتا ہے یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور 99 بیماریوں کی دوا ہے جن میں سب سے ہلکی فکر ہے ( المعجم الاوسط : 5028)
السلام علیکم ورحمۃ اللہِ وبرکاتہ
اس کی کوئی صحیح سند کا حوالہ اگر ہو تو مل جائے؟ جزاکم اللہ خیر

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کی تفصیل کو دیکھنے کے لیے لنک میں نے سینڈ کیا ہے۔ اس کا کنوز الجنہ میں سے ہونا یہ تو ٹھیک ہے۔ باقی جتنے اور فضائل ہیں وہ سند کے اعتبار سے تو ضعف رکھتے ہیں۔ تجرباتی طور پہ لوگوں کو بہرحال فائدہ ہوتا ہے۔
حول صحة حديث :” أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة ” – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/0O7B3sHAjqJRtz87l

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ مستدرک حاکم میں موجود ہے.
مستدرک حاکم#1990

حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ صالِحِ بْنِ هانِئٍ، ثنا أبُو عَمْرٍو المُسْتَمْلِي، ثنا إسْحاقُ بْنُ إبْراهِيمَ الحَنْظَلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزّاقِ، أنْبَأ بِشْرُ بْنُ رافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ ﵁، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قالَ:
«مَن قالَ لا حَوْلَ ولا قُوَّةَ إلّا بِاللَّهِ، كانَ دَواءً مِن تِسْعَةٍ وتِسْعِينَ داءً أيْسَرُها الهَمُّ» هَذا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ولَمْ يُخَرِّجاهُ، وبِشْرُ بْنُ رافِعٍ الحارِثِيُّ لَيْسَ بِالمَتْرُوكِ، وإنْ لَمْ يُخَرِّجاهُ، وكَذَلِكَ الهَيْثَمُ البَكّاءُ لَمْ يُخَرِّجاهُ، ولَهُ حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ، وهَذا مَوْضِعُهُ فَإنَّهُ مِن عُبّادِ المُسْلِمِينَ “

المستدرك على الصحيحين للحاكم ١/‏٧٢٧ — الحاكم، أبو عبد الله (ت ٤٠٥)6
اس کی سند میں بشر بن رافع الحارثی مجروح راوی ہے
سندہ ،ضعیف
البتہ لا حول ولاقوۃ الاباللہ، جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ یہ ثابت ہے۔
(بخاری#4205)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ