سوال 7603

أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : ” مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ “. قَالَا : قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. فَقَالَ : ” لَا تَفْعَلُوا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ ؛ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ ؛ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ “.

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ایک روایت سنن ابی داؤد میں مذکور ہے، جس میں دو افراد کے اپنے رِحال میں نماز پڑھنے کا ذکر آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس روایت کی کسی سند یا دوسرے طرق میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ ’’رِحال‘‘ سے مراد گھر نہیں بلکہ محلے کی مسجد ہے؟ یا کسی محدث نے باب قائم کرتے ہوئے، کسی شارح نے حدیث کی تشریح میں، یا اپنے فہم سے اس بات کی وضاحت کی ہو کہ ان دونوں حضرات نے اپنے گھر میں نہیں بلکہ محلے کی مسجد میں نماز پڑھی تھی؟
اگر محدثین یا شارحین میں سے کسی کی ایسی صراحت یا وضاحت ملتی ہو تو براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً، وبارک اللہ فیکم

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فی رحالنا او فی منزلنا جہاں موجود تھے جہاں اترے تھے وہاں ہم نے نماز ادا کر لی یہ مراد ہے۔ غالباً شیخ عبدالرزاق عبدالمحسن البدر حفظہ اللہ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ حج کا واقعہ ہے اور وہ منیٰ کے خیموں میں انہوں نے نماز ادا کی تھی۔
ملاحظہ فرمائیں:

فترتعد فرائصهما، والفرائص: جمع فريصة وهي اللحمة التي بين الكتف والجنب، وتتحرك عندما يصير هناك اضطراب وانزعاج أو تأثر، فقال: «ما لكما لم تصليا؟» قالا : “صلينا في رحالنا” يعني الفرض الذي علينا أديناه في رحالنا، يعني في الخيام في منى، فقال: «لا تفعلا يعني في المستقبل، «لا تفعلا إذا أتيتما والإمام لم يصل فصليا معه، تكون لكما نافلة»، وهذا يدل على صحة صلاة المتنفل خلف المفترض، بل أيضًا حتى في الصلوات التي لا يتنفل بعدها، مثل صلاة الفجر، لأن صلاة الفجر ما في تنفل بعدها، ومع ذلك في إعادة الجماعة، وكونهم يصلونها جماعة نافلة بعد أن صلوا الفريضة في رحالهما، هذا يدل على جواز . ذلك، وعلى أن ذلك سائغ، فالحديث واضح الدلالة۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ