فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کا مختصر تعارف

اللہ رب العزت نے ہر دور میں ایسے رجالِ علم پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگیاں قرآن و سنت کی تعلیم، تحقیق، تدریس، دعوت، اصلاح اور علمی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ برصغیر پاک و ہند کی معاصر علمی تاریخ میں فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ بھی ایک نمایاں علمی شخصیت ہیں، جن کی خدمات کا دائرہ درس و تدریس سے آگے بڑھ کر تحقیق، اسلامی قانون، فقہِ مقارن، علومِ قرآن، قراءات، علمی صحافت، ادارہ سازی، تربیتِ رجال، خواتین کی دینی تعلیم اور جدید ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے کتاب و سنت کی اشاعت تک وسیع ہے۔
آپ کا تعلق برصغیر کے معروف علمی خانوادہ روپڑی سے ہے۔ آپ نے اپنے خاندانی علمی ورثے کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک وسیع علمی و تحقیقی نظام کی بنیاد رکھی۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ و بیت العتیق)، مجلس التحقیق الاسلامی، ماہنامہ محدث، مجلہ رشد، کلیۃ القرآن الکریم، المعہد العالی للشریعۃ والقضاء، المعہد العالی للدعوۃ والإعلام، خواتین کے تعلیمی مراکز اور بعد ازاں کتاب و سنت کی وسیع ڈیجیٹل سرگرمیاں اسی علمی جدوجہد کے مختلف مظاہر ہیں۔ آپ کی علمی شخصیت کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ آپ نے دینی علوم اور عصری تعلیم کے امتزاج، ادارہ جاتی تحقیق، اجتماعی علمی کاوش اور نئی نسل کی علمی و فکری تربیت کو اپنی عملی جدوجہد کا حصہ بنایا۔ آپ کی شخصیت ایک مدرس، محقق، مربی، منتظم، مدیر اور داعی کی حیثیت سے ایک وسیع علمی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔

خاندانی پس منظر اور علمی روایت:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کا تعلق امرتسر کے معروف علمی خاندانِ روپڑی سے ہے۔ اس خاندان کی دینی و علمی روایت آپ کے دادا میاں روشن دین رحمہ اللہ سے جڑی ہوئی ہے۔ میاں روشن دین رحمہ اللہ کو اپنے والدین سے وافر دنیاوی مال و اسباب ملا، لیکن وہ اسے برقرار نہ رکھ سکے۔ اس کے بعد ان کے اندر دینی علوم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے دین کی طرف خصوصی توجہ کی۔انہوں نے قرآن مجید کو اپنی زندگی اور آئندہ نسلوں کی تربیت کا مرکز بنایا۔ حج کے موقع پر ملتزم کے مقام پر ان سے منسوب یہ دعا بھی خاندان کی علمی روایت میں بیان کی جاتی ہے:

’’اے اللہ! میری اولاد کو قرآن کا حافظ اور محافظ بنا دے۔‘‘

اس دعا اور دینی ذوق کے نتیجے میں خاندان میں قرآن مجید کے حفظ کی روایت مضبوط ہوئی اور تقریباً ایک صدی سے خاندان کے بیشتر بچوں کی تعلیم کا آغاز حفظِ قرآن سے ہونے کی روایت بیان کی جاتی ہے۔میاں روشن دین رحمہ اللہ کی اولاد میں پانچ بیٹے حافظِ قرآن ہوئے:
1. حافظ رکن دین رحمہ اللہ
2. حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ
3. حافظ محمد حسین رحمہ اللہ
4. حافظ عبد الرحمن کمیر پوری رحمہ اللہ
5. عبد القادر رحمہ اللہ جن کا انتقال کم عمری میں ہوا
اس خاندان کی ابتدائی نسبت کمیر پور، ضلع امرتسر سے بیان کی جاتی ہے۔ بعد ازاں یہ علمی سلسلہ روپڑ پہنچا اور خاندان ’’روپڑی‘‘ کی علمی نسبت سے معروف ہوگیا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ اسی علمی سلسلے کے فرزند ہیں اور حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے ممتاز تلامذہ اور تربیت یافتہ افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

حفاظ گروپ اور دینی خود کفالت:
اس خاندانی روایت کا ایک اہم پہلو دینی خدمت کے ساتھ معاشی خود کفالت کا تصور بھی ہے۔ میاں روشن دین رحمہ اللہ اپنے اہلِ خانہ کو اس بات کی تلقین کرتے تھے کہ دینی خدمت کرنے والا شخص حتی الامکان دوسروں کا محتاج نہ ہو بلکہ اپنی معاشی ضروریات کے لیے خود بھی کوشش کرے۔اسی فکر کے تحت خاندان کے افراد نے مختلف کاروباری شعبوں میں سرگرمیاں اختیار کیں اور بعد میں یہ کاروباری سلسلہ ’’حفاظ گروپ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے بیان کے مطابق کاروباری وسائل کو دینی و تعلیمی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔اسی پس منظر میں ’’رحمانیہ‘‘ کے نام سے دینی و تعلیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

ولادت، ابتدائی تربیت اور حفظِ قرآن:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی ولادت یکم اپریل 1940ء کو ہوئی۔ آپ نے کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا۔ حفظِ قرآن کے ابتدائی مراحل میں آپ نے قاری فضل کریم رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔آپ کی ابتدائی زندگی میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کو بھی اہمیت حاصل رہی۔ اسکول اور کالج کی تعلیم کے دوران بالخصوص ریاضی اور سائنس کے مضامین میں آپ کی تعلیمی کارکردگی بہتر رہی۔

جامعہ اہل حدیث، چوک دالگراں لاہور:
ابتدائی دینی تعلیم کے بعد آپ نے جامعہ اہل حدیث، چوک دالگراں لاہور میں علومِ آلیہ و علومِ عالیہ کی متعدد کتب کا مطالعہ کیا اور اپنے خاندانی علمی مرکز سے گہرا تعلق برقرار رکھا۔اس مرحلے میں آپ نے اپنے والد محترم حافظ محمد حسین رحمہ اللہ اور تایا گرامی حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ سے خصوصی استفادہ کیا۔ حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم کی تعلیم نے آپ کے علمی مزاج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد آپ جامعہ اہل حدیث کے انتظامی امور سے بھی وابستہ ہوئے۔ مدینہ منورہ جانے سے قبل آپ جامعہ اہل حدیث، چوک دالگراں کے ناظم اور ہفت روزہ ’’تنظیم اہل حدیث‘‘ کے مدیر بھی رہے۔

جامعہ اشرفیہ اور جامعہ مدنیہ سے استفادہ:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کا علمی سفر ایک ہی ادارے تک محدود نہیں رہا۔ آپ نے مختلف علمی مراکز اور مختلف علمی مناہج رکھنے والے اساتذہ سے استفادہ کیا۔
جامعہ اشرفیہ، مسلم ٹاؤن لاہور میں آپ نے فقہ، اصولِ فقہ، حدیث اور دیگر علوم کا مطالعہ کیا اور مولانا رسول خان رحمہ اللہ اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ جیسے اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
اسی طرح جامعہ مدنیہ، لوہاری گیٹ لاہور میں مولانا شریف اللہ خان رحمہ اللہ سے منطق، فلسفہ، علمِ ہیئت اور متعلقہ نصابی علوم پڑھے۔ ان مختلف علمی مراکز سے حاصل ہونے والے علمی فیض نے آپ کے اندر وسعتِ نظر اور مختلف علمی زاویوں کو سمجھنے کا رجحان پیدا کیا۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا علمی سفر:
اعلیٰ تعلیم کے لیے حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا سفر کیا۔ پاکستان سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ابتدائی وظائف حاصل کرکے 1963ء میں مدینہ منورہ جانے والے اہلِ علم میں حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ، حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ اور مولانا عبد السلام کیلانی رحمہ اللہ کے نام نمایاں طور پر ملتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں آپ نے “کلیۃ الشریعہ” میں تعلیم حاصل کی اور فقہ، اصول، فقہِ مقارن اور دیگر شرعی علوم میں علمی تخصص حاصل کیا۔ مدینہ منورہ کے علمی ماحول اور وہاں کے جلیل القدر علماء سے استفادے نے آپ کے علمی افق کو مزید وسعت دی۔مدینہ منورہ سے وابستگی کے بعد آپ کے نام کے ساتھ ’’مدنی‘‘ کی نسبت معروف ہوئی، جو بعد میں آپ کی علمی شناخت کا مستقل حصہ بن گئی۔

نمایاں اساتذہ و علمی مربیان:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے علمی سفر میں متعدد جلیل القدر علماء سے استفادہ شامل ہے، جن میں:
– حافظ محمد حسین رحمہ اللہ
– حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ
– قاری فضل کریم رحمہ اللہ
– مولانا محمد عبدہ فیروزپوری رحمہ اللہ
– مولانا رسول خان رحمہ اللہ
– مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ
– مولانا شریف اللہ خان رحمہ اللہ
– شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
– شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ
– شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ
– شیخ حماد بن محمد الانصاری رحمہ اللہ
ان اساتذہ سے حدیث، فقہ، اصول، فقہِ مقارن، تفسیر، منطق، فلسفہ، قراءات اور تحقیق جیسے مختلف علوم میں استفادہ کیا۔

تدریس، تحقیق اور اعلیٰ علمی تخصص:
مدینہ منورہ سے واپسی کے بعد حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ نے اپنی علمی زندگی کو محض تدریس تک محدود نہیں رکھا بلکہ تدریس، تحقیق، ادارہ سازی، علمی صحافت اور تربیتِ رجال کو باہم مربوط کیا۔
آپ نے ’’أصول الاجتهاد في الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله ﷺ وسننه وأيامه‘‘
کے موضوع پر امام بخاری رحمہ اللہ کی صحیح کے اصولِ اجتہاد سے متعلق تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جو جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ موضوع حدیث، فقہ اور اصولِ اجتہاد کے باہمی تعلق سے آپ کی علمی دلچسپی اور تحقیقی منہج کی عکاسی کرتا ہے۔

مدرسہ رحمانیہ سے جامعہ لاہور الاسلامیہ تک:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک اہم باب مدرسہ رحمانیہ کی تنظیمِ نو اور اس کے جامعہ لاہور الاسلامیہ کی صورت میں ارتقاء سے تعلق رکھتا ہے۔
دہلی کا مدرسہ رحمانیہ تقسیمِ ہند سے قبل ایک معروف دینی ادارہ تھا اور اس کے تعلیمی و امتحانی امور میں خاندانِ روپڑی کے اکابر کا اہم تعلق رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں ’’رحمانیہ‘‘ کے نام سے دینی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ منظم کیا گیا۔ اس درسگاہ کو پہلے ثانوی سطح تک منظم کیا گیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے ’’جامعہ لاہور الاسلامیہ‘‘ کا تصور سامنے آیا۔
اسی ارتقائی مرحلے میں کلیۃ الشریعۃ اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کی اسلامی تربیت کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء کا آغاز کیا گیا۔
بعد ازاں جامعہ میں مختلف کلیات اور اعلیٰ تعلیمی شعبے قائم ہوئے اور ’’رحمانیہ‘‘ کی نسبت بھی برقرار رہی۔ اسی لیے پاکستان میں یہ ادارہ ’’جامعہ رحمانیہ‘‘ کے نام سے بھی معروف رہا، جبکہ عرب ممالک میں ’’جامعہ لاہور الاسلامیہ‘‘ کی نسبت زیادہ استعمال ہوئی۔

جامعہ لاہور الاسلامیہ کے نمایاں شعبہ جات:

1۔ کلیۃ الشریعۃ
کلیۃ الشریعۃ میں علومِ شریعت، فقہ، اصولِ فقہ اور اسلامی قانون کی تعلیم کو مرکزی حیثیت دی گئی، جبکہ دینی علوم کے ساتھ جدید قانونی اور معاشرتی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔

2۔ المعہد العالی للشریعۃ والقضاء
جدید تعلیم یافتہ افراد، علماء، وکلاء اور ججز کو اسلامی قانون اور قضاء سے روشناس کرانے کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء قائم کیا گیا۔ اس کے تحت اعلیٰ تربیتی پروگراموں کے ذریعے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو فقہ، اسلامی قانون اور قضاء کے بنیادی و تطبیقی مباحث سے روشناس کرایا گیا۔ اس پروگرام کا ایک مقصد جدید تعلیم یافتہ طبقے، بالخصوص قانون سے وابستہ افراد، کو اسلامی قانونی تربیت فراہم کرنا تھا۔ دینی نصاب اور قانون دان طبقے کی ضروریات کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے لیے الگ نصابی و تربیتی طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔

3۔ کلیۃ القرآن الکریم
قرآن کریم، علوم القرآن، تجوید اور قراءات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کلیۃ القرآن الکریم قائم کیا گیا۔ اس شعبے کے قیام میں قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ کا بنیادی علمی کردار رہا، جبکہ حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی سرپرستی اور ادارہ جاتی تعاون بھی شامل تھا۔
1989ء میں قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ سے رابطوں کے بعد اس نئے کلیے کا منصوبہ بنایا گیا اور 1991ء میں کلیۃ القرآن الکریم کا آغاز ہوا۔ اس کے لیے مدینہ یونیورسٹی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے مستقل نصاب بھی مرتب کیا گیا۔اس شعبے کے فارغین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں قرآن، تجوید اور قراءات کے متعدد مراکز قائم کیے، جس سے اس تعلیمی تجربے کے اثرات جامعہ کی حدود سے باہر بھی پھیلے۔

4۔ کلیۃ العلوم الاجتماعیۃ
جامعہ کے تعلیمی تصور میں معاشرتی علوم اور عصری تعلیم کو بھی جگہ دی گئی، تاکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ عصرِ حاضر کے فکری، سماجی اور عملی مسائل کو سمجھ سکیں۔

5۔ المعہد العالی للدعوۃ والإعلام
دعوت، ابلاغ اور جدید ذرائعِ ابلاغ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے لیے المعہد العالی للدعوۃ والإعلام بھی جامعہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کا حصہ رہا۔

6۔ مجلس التحقیق الاسلامی
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک نہایت اہم کارنامہ مجلس التحقیق الاسلامی کا قیام ہے۔اس ادارے کا مقصد شخصی علمی کاوش کے بجائے اجتماعی اور ادارہ جاتی تحقیق کو فروغ دینا تھا۔ مجلس کے تحت فقہ، حدیث، اسلامی قانون، قرآن، قراءات، اسلامی معاشیات، مالیات، بینکاری، رسائل و جرائد اور جدید علمی مسائل پر مختلف تحقیقی منصوبے شروع کیے گئے۔

7۔ موسوعہ قضائیہ
مجلس التحقیق الاسلامی کے اہم طویل المدت منصوبوں میں ’’موسوعہ قضائیہ‘‘ شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نبی کریم ﷺ کے عہد سے لے کر عصرِ حاضر تک اسلامی عدالتی فیصلوں اور قضائی مواد کو جمع، مرتب اور تحقیقی اصولوں کے مطابق محفوظ کرنا تھا۔اس منصوبے میں اسلامی ممالک کے عدالتی فیصلوں کے ساتھ غیر مسلم ممالک میں قائم شریعت کونسلوں کے فیصلوں کو بھی شامل کرنے کا تصور تھا۔

8۔ موسوعہ قراءاتِ قرآنیہ
مجلس التحقیق الاسلامی اور کلیۃ القرآن الکریم کے علمی تعاون سے ’’موسوعہ قراءاتِ قرآنیہ‘‘ کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا۔ اس میں قراءات، ائمہ قراءات، قراء، اسناد، کتبِ قراءات اور متعلقہ علمی مباحث کو ایک وسیع تحقیقی دائرے میں جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی علمی ذوق کا ایک نمایاں مظہر ماہنامہ ’’رشد‘‘ کے قراءات کے خصوصی نمبرز بھی ہیں، جن میں قراءات کے مختلف پہلوؤں پر وسیع تحقیقی مواد شائع ہوا۔

9۔ رسائل و جرائد کا اشاریہ
مجلس التحقیق الاسلامی کے اہم منصوبوں میں برصغیر کے دینی و علمی رسائل و جرائد کے وسیع ذخیرے کا اشاریہ تیار کرنے کی کوشش بھی شامل رہی۔ اس منصوبے کا مقصد مختلف ادوار کے منتشر علمی مواد کو ایک منظم اشاریاتی نظام کے ذریعے محققین کے لیے قابلِ رسائی بنانا تھا۔ یہ منصوبہ بھی مجلس کے بیان کردہ تین بڑے موسوعاتی منصوبوں میں شامل تھا۔

10۔ اسلامی معاشیات، مالیات اور بینکاری
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی علمی جدوجہد میں اسلامی معاشیات، مالیات اور بینکاری بھی اہم موضوعات رہے۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے تحت جدید معاشی مسائل کا مطالعہ قرآن و سنت، فقہِ اسلامی اور اصولِ شریعت کی روشنی میں کرنے کے لیے مختلف علمی سرگرمیاں جاری رہیں۔ مقصد اسلامی معاشی اصولوں کو عصرِ حاضر کے مالیاتی اور معاشی مسائل کے تناظر میں علمی انداز سے پیش کرنا تھا۔

11۔ ماہنامہ ’’محدث‘‘
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی علمی و صحافتی خدمات میں ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا آغاز 1970ء میں ہوا اور بعد کے عشروں میں یہ قرآن و حدیث، فقہ، اسلامی قانون، معاشرت، جدید فکری مسائل اور اسلامی تحقیق کے حوالے سے ایک مستقل علمی مجلے کی صورت اختیار کرتا گیا۔اس مجلے نے کئی نسلوں کے علماء، محققین اور اہلِ قلم کو علمی اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ اس کے مدیرِ اعلیٰ سے وابستہ رہے، جبکہ بعد کے دور میں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر حافظ حسن مدنی حفظہ اللہ نے عملی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
محدث کے کئی دہائیوں پر محیط علمی ذخیرے کو بعد میں ڈیجیٹل صورت میں بھی محفوظ کیا گیا، جس سے پرانے شماروں اور علمی مواد تک محققین اور قارئین کی رسائی آسان ہوئی۔

12۔ ماہنامہ ’’رشد‘‘
ماہنامہ ’’رشد‘‘ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے علمی و تحقیقی ماحول سے وابستہ ایک اہم رسالہ ہے۔ اس کا آغاز 1990ء میں طلبہ کے ترجمان کے طور پر ہوا اور بعد میں یہ ایک باقاعدہ تحقیقی مجلے کی صورت اختیار کر گیا۔رشد کے مختلف خصوصی نمبرز میں قرآن، قراءات، حدیث، علومِ اسلامیہ اور دیگر علمی موضوعات پر تفصیلی تحقیقی مواد شائع ہوا۔ خصوصاً قراءات کے خصوصی نمبرز میں ملک و بیرونِ ملک کے اہلِ علم کی تحریریں شامل ہوئیں۔رشد نے علمی مواد کی اشاعت کے ساتھ نئی نسل کے اہلِ قلم اور محققین کی تحریری و تحقیقی تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔ اس کی ادارت اور انتظام میں جامعہ کے متعدد اہلِ علم اور طلبہ نے مختلف ادوار میں خدمات انجام دیں۔

13۔ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے علمی و تعلیمی نظام میں خواتین کی دینی تعلیم کو بھی اہم مقام حاصل رہا۔ خواتین کے لیے قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیم کے مراکز قائم کیے گئے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ رضیہ مدنی نے اسلامک انسٹیٹیوٹ کے ذریعے خواتین میں قرآن و حدیث کی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھایا، جبکہ لاہور میں متعدد تعلیمی مراکز اور قرآن سنٹرز کے ذریعے خواتین نے استفادہ کیا۔

14۔ مرکز النور اور جدید ڈیجیٹل علمی خدمات
عصرِ حاضر میں حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے ادارہ جاتی نظام کا ایک اہم پہلو ڈیجیٹل دعوت، تحقیق اور اشاعت ہے۔
مرکز النور اور جامعہ لاہور الاسلامیہ سے وابستہ مختلف منصوبوں کے ذریعے قرآن و حدیث اور اسلامی علمی ذخیرے کو جدید ذرائع کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان منصوبوں میں:
– محدث لائبریری / کتاب و سنت
– محدث حدیث
– محدث فتویٰ
– محدث فورم
– محدث میگزین
– محدث قرآن لائبریری
– محدث خطیب
– محدث گرافکس
– محدث اسٹوڈیو
– محدث میڈیا
– رسائل و جرائد
– مکتبہ شاملہ اردو
– دیگر آن لائن علمی منصوبے
محدث لائبریری اور کتاب و سنت کے ذریعے اسلامی کتب، رسائل، فتاویٰ اور تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح مطبوعہ علمی ذخیرے کو جدید ذرائع کے ذریعے نئی نسل اور دنیا بھر کے اردو داں قارئین تک پہنچانے کی راہ ہموار ہوئی۔

تربیتِ رجال، تلامذہ اور فضلاء:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو تربیتِ رجال ہے۔ آپ کے زیرِ تعلیم یا آپ کے قائم کردہ اداروں کے علمی ماحول سے متعدد علماء، قراء، محققین، وکلاء، ججز اور جدید تعلیم یافتہ افراد نے استفادہ کیا۔
1۔ مولانا خالد سیف شہید رحمہ اللہ
2۔ پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب شہید رحمہ اللہ
3۔ مولانا محمد شفیق مدنی حفظہ اللہ
4۔ ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد حفظہ اللہ
5۔ ڈاکٹر حافظ محمد انور حفظہ اللہ
6۔ ڈاکٹر نصیر اختر حفظہ اللہ
7۔ سید توصیف الرحمن راشدی حفظہ اللہ
8۔ مولانا عبد القوی لقمان حفظہ اللہ
9۔ مولانا اجمل بھٹی حفظہ اللہ
10۔ مولانا محمد اکرم بھٹی حفظہ اللہ
11۔ حافظ محمد سعید حفظہ اللہ
12۔ پروفیسر ظفر اقبال حفظہ اللہ
13۔ قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ

علمی رفقاء اور معاونین:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے علمی سفر میں مختلف مراحل پر متعدد اہلِ علم نے رفاقت اور تعاون کیا۔ ان میں بالخصوص حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ، مولانا عبد السلام کیلانی رحمہ اللہ، مولانا صادق خلیل رحمہ اللہ، حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ، قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ اور دیگر اہلِ علم شامل ہیں۔

علمی خانوادے کی تربیت:
حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے گھرانے میں قرآن، دینی علوم، عصری تعلیم اور تحقیق کے امتزاج کو جاری رکھا۔
آپ کے صاحبزادگان میں:
– ڈاکٹر حافظ حسین مدنی حفظہ اللہ
– ڈاکٹر حافظ حسن مدنی حفظہ اللہ
– ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی حفظہ اللہ
– ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی حفظہ اللہ
جنہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مختلف علمی، تحقیقی، تدریسی اور قرآنی میدانوں میں خدمات انجام دیں۔ڈاکٹر حافظ حسن مدنی حفظہ اللہ کا ماہنامہ ’’محدث‘‘ اور جامعہ کے تعلیمی و انتظامی امور سے تعلق، ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی حفظہ اللہ کی ’’رشد‘‘ اور دیگر علمی و ڈیجیٹل منصوبوں سے وابستگی، اور ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی حفظہ اللہ کی قراءات و کلیۃ القرآن سے وابستگی اس علمی خانوادے کے مختلف شعبوں میں تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔

اللہ رب العزت فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کو صحت و عافیت کے ساتھ ایمان، علم اور عمل کی زندگی عطا فرمائے، ان کی علمی، تحقیقی، تعلیمی، دعوتی اور ادارہ جاتی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے قائم کردہ علمی مراکز کو کتاب و سنت کی تعلیم و تحقیق کا ذریعہ بنائے، ان کے تلامذہ، فضلاء، اولاد اور متعلقین کو ان کے علمی مشن کو اخلاص کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی تمام مساعی کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ناشر: حافظ امجد ربانی