لوگوں میں کھو کر خود کو نہ بھول جائیں

کس قدر دُکھ اور خسارے کی بات ہے کہ ہم دن بھر دوسروں کے حالات، ان کی باتوں اور ان کی غلطیوں میں الجھے رہتے ہیں، اور اپنا محاسبہ، اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر سے غافل رہتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا نفس زیادہ حق دار ہے کہ اس کی غلطیوں کی اصلاح ہو، اسے درست راستے کی راہ نمائی ملے، کہ ہم نے قبر میں بھی اکیلے جانا ہے اور اللہ کے سامنے بھی اکیلے کھڑا ہونا ہے، وہاں نہ تو کسی کے بارے سوال ہوگا اور نہ ہی کوئی دوسرا کام آئے گا۔

✿۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا﴾

’’اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اکیلا اکیلا اس کے پاس حاضر ہوگا۔‘‘

(سورۃ مریم : ٩٥)

✿۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

«إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ».

’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں: ’’کہا گیا اور اس نے کہا‘‘ (یعنی فضول باتیں نقل کرنا)، مال ضائع کرنا، اور بہت زیادہ سوال کرنا۔‘‘

(صحيح البخاري : ١٤٧٧، صحيح مسلم : ٥٩٣)

⇚ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

“يُبْصِرُ أَحَدُكُمُ الْقَذَاةَ فِي عَيْنِ أَخِيهِ، وَيَنْسَى الْجِذْلَ أَوِ الْجِذْعَ فِي عَيْنِ نَفْسِهِ.”

’’تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا تو دیکھ لیتا ہے، اور اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر بھول جاتا ہے۔‘‘

(الأدب المفرد للبخاري : ٥٩٢)

⇚ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (٣٢هـ) فرماتے ہیں :

“لَا تُكَلِّفُوا النَّاسَ مَا لَمْ يُكَلَّفُوا، وَلَا تُحَاسِبُوا النَّاسَ دُونَ رَبِّهِمْ، ابْنَ آدَمَ، عَلَيْكَ نَفْسَكَ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ مَا يُرَى فِي النَّاسِ يَطُلْ حُزْنُهُ، وَلَا يُشْفَ غَيْظُهُ.”

’’لوگوں کو اس چیز کا مکلف نہ بناؤ جس کے وہ مکلف نہیں، اور ان کے رب سے پہلے خود لوگوں کا حساب نہ کرنے بیٹھ جاؤ۔ اے آدم انسان! اپنی فکر کرو، کیونکہ جو لوگوں میں نظر آنے والی باتوں کے پیچھے لگا رہتا ہے، اس کا غم لمبا ہو جاتا ہے اور اس کا غصہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔‘‘

(حلية الأولياء : ١/‏٢١١)

⇚ بکر بن ماعز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن الکواء نے ربیع بن خثیم رحمہ اللہ سے کہا: ہم آپ کو کبھی کسی کی برائی یا عیب بیان کرتے نہیں دیکھتے؟ تو انہوں نے فرمایا :

“وَيْلَكَ يَا ابْنَ الْكَوَّاءِ، مَا أَنَا عَنْ نَفْسِي بِرَاضٍ فَأَتَفَرَّغَ مِنْ ذَمِّي إِلَى ذَمِّ النَّاسِ، إِنَّ النَّاسَ خَافُوا اللَّهَ عَلَى ذُنُوبِ الْعِبَادِ، وَأَمِنُوا عَلَى ذُنُوبِهِمْ.”

’’افسوس ہے تم پر اے ابن الکواء! میں اپنے آپ سے ہی راضی نہیں کہ اپنی برائی سے فارغ ہو کر لوگوں کی برائی میں لگ جاؤں۔ لوگ دوسرے بندوں کے گناہوں پر تو اللہ سے ڈرتے ہیں، اور اپنے گناہوں سے بے خوف ہو گئے ہیں۔‘‘

(مصنف ابن أبي شيبة : ٣٥٥٥٦)

⇚ فضیل بن زید رقاشی رحمہ اللہ (٩٥هـ)، جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، وہ فرماتے ہیں :

“لَا يُلْهِيَنَّكَ النَّاسُ عَنْ ذَاتِ نَفْسِكَ، فَإِنَّ الْأَمْرَ يَخْلُصُ إِلَيْكَ دُونَهُمْ، وَلَا تَقْطَعِ النَّهَارَ بِكَيْتَ وَكَيْتَ، فَإِنَّهُ مَحْفُوظٌ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ.”

’’لوگ تمہیں تمہاری اپنی ذات سے غافل نہ کر دیں، کیونکہ حساب کا معاملہ ان کے بغیر صرف تم تک پہنچے گا۔ اور اپنا دن ’’یوں ہوا، ایسے ہوا‘‘ میں نہ گزارو، کیونکہ جو تم کہتے ہو وہ تمہارے خلاف محفوظ کیا جا رہا ہوتا ہے۔‘‘

(الزهد لأحمد : ١٤٣٤)

⇚ عون بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

“إِذَا أَزْرَى أَحَدُكُمْ عَلَى نَفْسِهِ فَلَا يَقُولَنَّ: مَا فِيَّ خَيْرٌ، فَإِنَّ فِيهِ التَّوْحِيدَ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُهْلِكَنِي مَا فِيَّ مِنَ الشَّرِّ، وَمَا أَحْسِبُ أَحَدًا تَفَرَّغَ لِعَيْبِ النَّاسِ إِلَّا مِنْ غَفْلَةٍ غَفَلَهَا عَنْ نَفْسِهِ، وَلَوِ اهْتَمَّ لِعَيْبِ نَفْسِهِ مَا تَفَرَّغَ لِعَيْبِ أَحَدٍ وَلَا لِذَمِّهِ.”

’’جب تم میں سے کوئی اپنے نفس کو ملامت کرے تو یہ نہ کہے کہ مجھ میں کوئی بھلائی نہیں، کیونکہ اس میں توحید تو ہے، بلکہ یوں کہے کہ مجھے ڈر ہے کہ میرے اندر کی برائی مجھے ہلاک نہ کر دے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی لوگوں کے عیب ڈھونڈنے کے لیے فارغ ہوا ہے، وہ اپنے آپ سے کسی غفلت ہی کی وجہ سے ہوا ہے، اگر اسے اپنے عیب کی فکر ہوتی تو نہ کسی کے عیب کے لیے فرصت ملتی نہ کسی کی مذمت کے لیے وقت ہوتا۔‘‘

(شعب الإيمان للبيهقي : ١٠/‏٥٩)

بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری مجالس کا بڑا حصہ دوسروں کی باتوں سے بھرا رہتا ہے: فلاں نے یہ کیا، فلاں ایسا ہے، فلاں ایسا ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو بندہ اپنے آپ میں مشغول ہو جاتا ہے، اسے واقعی دوسروں پر تبصروں کی فرصت نہیں ملتی۔

🖋 … حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں: والد کے بعد فتنے کے شکار بیٹے کو امام اوزاعی رحمہ اللہ کا خط