سوال 7325
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
حرام چیز کی اجرت کے بارے میں یعنی ایک جواری جوا ہار جائے اور پیسے نہ دے تو کیا اسے قیامت والے دن دینے پڑے گے؟ کام تو حرام ہے اسی طرح شراب چوری کرکے پینا؟ اور اگر کوئی کسی کے ساتھ ایک بات طے کرے یعنی مثال کے طور پر پیسے طے کرے کہ ایسا کرتے ہے میں تمہیں پیسے دونگا اور وہ کام بھی حرام ہو کبیرہ گناہ ہو کام ہونے کے بعد اسکو پیسے نا دے یا دے کر واپس چھین لے یا اس نے جہاں رکھے ہو وہ وہاں سے چوری کر لے تو کیا اسکو وہ پیسے قیامت والے دن دینے پڑے گے؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔
سوال یہ ہے کہ کیا حرام معاہدے پر عمل کرنا لازم ہے؟ مثلاً ایک جواری جوے میں رقم ہار جائے اور جیتنے والے کو نہ دے، یا کسی شخص نے سودی قرض لیا ہو، اصل رقم ادا کر دی ہو لیکن سود دینے سے انکار کر دے۔
یہ مسئلہ بظاہر کچھ الجھا ہوا معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی بنیاد واضح ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کسی معاملے کی اساس ہی حرام ہو تو اس کے حرام اجزاء کی پابندی لازم نہیں ہوتی۔
جب ہم نبی کریم ﷺ کی سنت کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قبل از اسلام یہودیوں کے سودی قرضوں میں مبتلا تھے۔ جب سود حرام ہوا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں رہنمائی طلب کی۔ ایک اثر میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اصل زر ادا کر دو، لیکن سود ادا نہ کرو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے گناہ سے توبہ کرنا چاہتا ہو، مثلاً ایک جواری جوئے سے توبہ کرنا چاہتا ہو اور اس کے ذمے جوئے کی رقم باقی ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے اس حرام رقم کی ادائیگی سے انکار کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔
البتہ اس جواب کو غلط معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ ایسا ہرگز نہ ہو کہ کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ فتویٰ مل گیا ہے، اس لیے میں جوا بھی کھیلوں گا، ہاروں گا بھی اور پھر رقم بھی ادا نہیں کروں گا۔ یہ درست طرزِ عمل نہیں۔
ایک اور پہلو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ ایسے معاملات میں فتنہ و فساد کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾
“لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے، اگرچہ لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔”
یہی گناہ اور فساد ہے جس کی وجہ سے جوا، شراب اور سود معاشرے میں لڑائی جھگڑے، قتل و غارت اور خاندانوں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض لوگ تو جوا کھیلتے ہوئے اپنی بیویوں اور بیٹیوں تک کو داؤ پر لگا دیتے تھے۔
لہٰذا میری گزارش یہی ہے کہ اگر فساد کا اندیشہ نہ ہو، اور انسان واقعی سچے دل سے توبہ کر رہا ہو، تو ایسی صورت میں گنجائش نکل سکتی ہے۔
امید ہے، ان شاء اللہ، بات واضح ہو گئی ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ



