سوال 7316
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
ہر وقت عالم کی توہین کرنا ٹھیک بات نہیں جو صحیح علماء ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْجَلَّابُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ إِخْصَاصٌ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسَ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ» ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا، فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ فَتَزْوَرُّ الشَّمْسُ لِلْمَغِيبِ نَتَرَاءَاهَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بَعْدَ احْتِجَاجِهِمَا بِرُوَاتِهِ» [التعليق – من تلخيص الذهبي] 690 – صحيح
“حضرت زیاد بن ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم کوفہ کی جامع مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان دنوں کوفہ ’’ دارالخلافہ ہوا کرتا تھا ‘‘ موذن آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! نماز عصر کا وقت ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ بیٹھ جاؤ ‘‘ وہ بیٹھ گیا ۔ موذن نے پھر یاد دلایا ۔ آپ نے اس کو پھر بٹھا دیا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ یہ کتا ہمیں سنت سکھا رہا ہے ‘‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز عصر پڑھائی ۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اسی جگہ آ گئے ، جہاں بیٹھے تھے ۔ ہم انگلیوں کے بل کھڑے ہو کر سورج کی طرف دیکھنے لگے تو غروب ہونے کے مقام کے قریب سورج دکھائی دے رہا تھا
لیکن جس کو کہا وہ کوئ صحابی یا اہل بیت کا فرد نھیں ہو گا ممکن ہے کوئ ایسا شخص ہو کو بعد میں خارجی ہوگیا ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی فراست سے اس کی خباثت پہنچان گئے ہوں واللہ اعلم باالصواب
جواب
یہ روایت ثابت نہیں، زیاد بن عبدالله النخعي مجھول ہے، سند میں زیاد بن عبدالرحمن لکھا ہے جو کہ درست نہیں، یہ زیاد بن عبدالله النخعي ہے، جیسا کہ ائمہ کی تصریحات سے واضح ہے
نیز عباس بن ذريح سے روایت کرنے والوں میں بھی ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ عبدالله اﻟﻨﺨﻌﻲ (مجھول) ہیں ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪالرحمن اﻟﻨﺨﻌﻲ نہیں
[تهذيب الكمال في أسماء الرجال : 210/14]
امام دارقطنی لکھتے ہیں :
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ مَجْهُولٌ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ
اس روایت کا راوی زیادہ بن عبداللہ نخعی مجہول ہے، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے
[سنن دارقطني : 988]
امام بیہقی نے بھی ایک سند میں پہلے زیاد بن عبدالرحمن سے روایت نقل کی ہے، اور پھر بعد میں دوسری سند سے ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﻨﺨﻌﻲ سے روایت کی ہے، درست ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﻨﺨﻌﻲ ہے جیسا کہ اوپر تھذیب الکمال سے ثابت کیا جاچکا،
ثانی : العلماء ورثة الانبیاء، یہ روایت کسی صحیح سند سے ثابت نہیں، البتہ صحیح البخاري، کتاب العلم کے اندر امام بخاری کا قول ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



