سوال 7539
حدیث نمبر: 1059
قال الْبُخَارِي، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ:” أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً”.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1027 (صحیح)»
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس حدیث کے حوالے سے وضاحت طلب ہے؟ براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَصَلَّی فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْہِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
[ترمذی: 257]
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح صلاۃ نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے صلاۃ پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے روایت کررہے سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
سندہ،ضعیف
اس روایت پر محدثین کی جرح بھی موجود ہے:
امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں
لَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ‘نبی اکرم ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ اپنے ددنوں ہاتھ اٹھائے’ والی ثابت نہیں ہے
[تحت الحدیث،ترمزی: 356]
اسی روایت کے نیچے امام ابوداؤد خود فرماتے ہیں:
لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ
ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے
[ابوداود تحت الحدیث: 748]
اسی طرح علل کے آئمہ، امام دارقطنی،امام ابوحاتم الرازی نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے،اسے خطا و غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
تنبیہ : ترک رفع الیدین پر ایک مرفوع یا موقوف روایت بھی باسند صحیح ثابت نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
السلام علیکم!
میں اس میں اضافہ کرنا چاہوں گا۔ حدیث کے بارے میں ہمیں پتہ چل گیا کہ اس کا درجہ کیا ہے۔ اب اگلی بات جو میں یہاں پر عرض کرنا چاہوں گا کہ اس حدیث کو جو لوگ بنیاد بناتے ہیں ان سے ایک سوال ہے کہ کیا آپ کے نزدیک رفع الیدین منسوخ ہے یا کہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ اگر تو منسوخ ہے تو وہ یہاں سے ثابت نہیں ہوتا۔ اور اگر سرے سے ہے ہی نہیں تو وہ جو صحیح روایات جن کی تعداد کم و بیش کوئی پونے 400 کے قریب بنتی ہے۔ رفع الیدین کرنے کی ان کو آپ کہاں رکھیں گے؟
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




