سوال 7364

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے کہ کتنے دن کا حمل ہو تو مس کیرج کے بعد وہ نفاس کے دنوں میں شمار ہوجاتا ہے؟
اگر کسی کا حمل سات ہفتے کا تھا تو کیا اس کا خون نفاس میں نہیں شمار ہوگا؟
ایک عورت کو مس کیرج کے بعد خون آتا ہے اور وہ دو ہفتے کے بعد بند ہوجاتا ہے جب اندر سے مکمل صفائی ہوجاتی ہے اس کے بعد اسے ایک ماہ بعد دوبارہ داغ لگنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ خون کبھی سرخ ہوتا اور زیادہ تر جس طرح حیض کے آخری دنوں میں براؤن سا گندا خون آتا ہے ویسا آتا ہے اور اس کو آتے ہوئے بھی دس دن ہو جاتے ہیں یعنی نفاس کی مدت بھی مکمل ہو جاتی ہے اس کے بعد بھی اسے داغ لگ رہا ہے تو کیا وہ ابھی بھی نماز ادا کرے گی کہ نہیں؟ یا کب سے وہ نماز ادا کرنا شروع کرے؟
کیونکہ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ نفاس کا خون شمار نہیں ہوگا اور آپ نماز ادا کر لیں اور کوئی کہہ رہا کہ آپ ابھی نماز نہ ادا کریں برائے مہربانی آگاہ کر دیجیئے تا کہ نماز ادا کرنے میں کوتاہی کرنے سے بچا جا سکے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مس کیرج ہونے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ بچہ جو ساقط ہوا ہے کچا بچہ جو گرا ہے۔ کیا اس کے اعضاء و نقوش ظاہر ہوگئے تھے چہرہ، ہاتھ، پیر وغیرہ؟ اگر ظاہر ہوگئے تھے تو پھر عورت نفاس میں داخل ہوگی۔ اور نفاس کی آخری مدت 40 ہے۔ 40 دن اس سے پہلے اگر بند ہو جائے مکمّل تو غسل کر کے نماز، روزہ کر سکتی ہے اور کرنا چاہیے۔ البتہ اگر وہ 40 کے عرصے میں دوبارہ سٹارٹ ہوگیا تو وہ نفاس ہی شمار ہوگا۔ اور نفاس میں نماز وغیرہ نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر نقوش ظاہر نہیں ہوئے تو پھر وہ خون فاسد ہے جو گرا ہے خون کی پھٹکی اور لوتھڑا خون فاسد ہے۔ وہ پہلے دن سے ہی غسل کر کے پیڈ وغیرہ یوز کرے اور خود کو مستحاضہ شمار کرے۔ اور پھر وہ ہر نماز کے لیے طہارت اختیار کر کے ایک مکمل نماز ادا کرے اگلی نماز کے لیے پھر طہارت کو اختیار کرے۔ یہ طریقہ ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: طہارت سے مراد وضوء یا غسل؟
جواب: ہر نماز کے لیے وضو ضروری ہے غسل نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ