سوال

امام تراویح بوجہ کمر درد بیٹھ کر تراویح پڑھائے تو کیا مقتدی حضرات وخواتین کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنی چاہیے یا کھڑے ہو کر؟ بينوا تؤجروا، بارك الله فيكم ونفع بكم.

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

امام یا مقتدیوں میں سے کوئی بھی بوجہ عذر یا مجبوری بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیمار تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمایا:

“صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ”. [صحيح البخاري:1050]

’کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، لیکن اگر قیام کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ جائیں، اور اگر یہ بھی استطاعت نہ ہو تو لیٹ کر پڑھ لیں‘۔

اور اس سلسلے میں مقتدی، امام کی اقتدا نہیں کرے گا، یعنی اگر امام کو عذر لاحق ہے اور وہ بیٹھ کر پڑھاتا ہے، اور مقتدی صحیح سلامت ہے اور قیام کی استطاعت رکھتا ہے، تو اس کے لیے امام کی اقتدا میں بیٹھنا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر امام صحیح سلامت ہے اور قیام کر رہا ہے، لیکن مقتدی قیام سے معذور ہے تو پھر اس کے لیے امام کی اقتدا کی وجہ سے کھڑا ہونا ضروری نہیں، بلکہ بوجہ عذر اسے بیٹھنے کی رخصت ہے۔

جہاں تک وہ حدیث ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ مرض میں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا چاہی تو آپ نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ بیٹھ کر پڑھیں اور پھر فرمایا:

«إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا… وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ». [صحيح البخاري:689،5658]

’امام کی اقتدا ضروری ہے، لہذا جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو‘۔

اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ذکر کرنے کے بعد اپنے استاذ امام حمیدی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا ہے:

«قَوْلُهُ: «إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ القَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا، لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالقُعُودِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ایک اور جگہ فرمایا:

«هَذَا الحَدِيثُ مَنْسُوخٌ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّى قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ»

یعنی یہ حدیث منسوخ ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نماز میں عمل یہ تھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگوں آپ کے پیچھے حالتِ قیام میں تھے اور آپ نے انہیں بیٹھنے کا حکم ارشاد نہیں فرمایا، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو لیا جائے گا۔

امام بخاری اور حمیدی رحمہما اللہ نے جس ناسخ حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کا مشہور واقعہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تھی۔ بخاری(687) و مسلم(418) میں یہ روایت موجود ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان دونوں حدیثوں پر بایں الفاظ باب باندھا ہے:

“بَابٌ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ بِالنَّاسِ وَهُوَ جَالِسٌ”. [صحيح البخاري (1/ 138]

حافظ ابن رجب فرماتے ہیں:

“مقصود البخاري هاهنا أن النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – كَانَ هُوَ الإمام فِي هذه الصلاة، وكان أبو بَكْر مؤتماً بِهِ، وكان النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – جالساً فِي هذه الصلاة، وكان أبو بَكْر إلى جانبه قائماً، والناس وراءه قياماً، ولم يأمره بالجلوس، وهذه الصلاة كَانَتْ فِي آخر حَيَاة النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فدل ذَلِكَ عَلَى نسخ أمره بالجلوس وراء الإمام إذا صلى جالساً؛ لأن ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ هَذَا بغير شك”. [فتح الباري له :6/ 150]

امام بخاری کا مقصد اس حدیث کا نسخ ثابت کرنا ہے، جس میں آپ نے پہلے لوگوں کو بیٹھنے کا حکم دیا تھا، کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ واقعہ پہلے کا ہے اور یہ آخری عمر کا ہے۔

البتہ دوسرا موقف یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ نہیں ہے اور دونوں حدیثوں میں جمع کی صورت یہ ہے کہ دونوں فعل جائز قرار دیے جائیں، یعنی جالس امام کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور کھڑے ہو کر بھی!

آخر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قیام فرض نماز کے لیے رکن ہے، لہذا  استطاعت رکھتے ہوئے قیام ترک کرنا جائز نہیں، جبکہ نفل نماز میں قیام مستحب ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے، البتہ بغیر عذر بیٹھ کر پڑھنے سے ثواب میں کمی آئے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“صَلاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاةِ”. [صحيح مسلم:1214]

’بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب آدھا ہے‘۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أما صلاة النافلة فيجوز القعود فيها من غير عذر إجماعا، لكن أجر القاعد حينئذ على النصف من أجر القائم”. [شرح مسلم:6/14]

’ اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ نفل نماز بغیر عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، البتہ کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نسبت اس کا ثواب آدھا ہو گا‘۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ