سوال 7593
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! میں پہلے ایک مائیکرو فنانس بینک میں کام کرتا تھا، جہاں ہم براہِ راست سودی معاملات کرتے تھے۔ مثلاً صارف کو ایک لاکھ روپے قرض دیا جاتا اور ایک سال یا ڈیڑھ سال بعد قسطوں کے ذریعے تقریباً ایک لاکھ 24 یا 25 ہزار روپے واپس لیے جاتے تھے۔
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور سود کی حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے وہ ملازمت چھوڑ دی، اور مجھ پر کسی قسم کا خاندانی دباؤ بھی نہیں تھا۔
بعد ازاں کسی کے مشورے پر میں نے UBL کے اسلامی بینکنگ شعبے میں ملازمت شروع کی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ خالص اسلامی بینک ہے اور یہاں اسلامی طریقہ فنانس کے مطابق معاملات ہوتے ہیں۔ اس وقت میں آٹو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہا ہوں۔
یہاں طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ بینک گاڑی خرید کر صارف کو مثلاً 30 لاکھ روپے کی گاڑی 35 لاکھ روپے میں تین یا پانچ سال کی اقساط پر فروخت کرتا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ سود نہیں بلکہ تجارت کا منافع ہے، کیونکہ گاڑی پہلے بینک خریدتا ہے اور پھر زیادہ قیمت پر صارف کو فروخت کرتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ معاملہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور کیا ایسی اسلامی آٹو فنانس سروس میں ملازمت کرنا میرے لیے جائز ہے؟ نیز اس معاملے میں کن شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے تاکہ یہ سود کے بجائے شرعی منافع شمار ہو؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بینکوں کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے، بیان کیا جا چکا ہے، سیمینارز ہو چکے ہیں، عرب میں ہو یا عجم میں، اسلامی ہو یا غیر اسلامی ہو۔
بینک سود کا ادارہ ہے، سود پر چلتا ہے، غرر اور دھوکے پر چلتا ہے۔ لہٰذا اس کی نوکری کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اسلامی لیبل لگا کر صرف دھوکا دیا جا رہا ہے۔ اس پر درجنوں، سینکڑوں مرتبہ بات ہو چکی ہے۔
اس کی تفصیل کتابوں کے اندر موجود ہے، اس کو دیکھنا چاہیے۔
بینک کاروباری ادارہ ہے ہی نہیں۔ اب وہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ ہم کاروبار کرتے ہیں، مضاربہ ہے، مشارکہ ہے، فلاں ہے، فلاں ہے۔ یہ بھی ایک غرر اور دھوکے کی شکل ہے۔
لہٰذا بینک سے، سوائے اس کے کہ کوئی صورت نہ رہے اور ضرورت کے تحت کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہو، باقی کوئی تعلق، رشتہ یا نوکری نہیں رکھنی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




