سوال 7520
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جاز کیش کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟
پیسے سینڈ کرنے پر بھی چارجز ہوتے ہیں اور نکلوانے پر بھی؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جاز کیش کے ذریعہ پیسے بھیجنے پر یا نکلوانے پر جو اضافی پیسے لیے جاتے ہیں یہ سود نہیں۔ سورس چارجیز ہیں۔ ادھار کی وجہ سے یا پیسے کے تبادلہ میں کمی بیشی سود ہے۔
[مسلم: 4064]
لیکن جیز کیش وغیرہ کی صورت میں پیسے نکلوانے یا بھیجنے کے سروس چارجز لیے جاتے فقط جو کہ سود نہیں۔
باقی یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ جیز کیش ،ایزی پیسہ وغیرہ یہ بھی(ڈیجیٹل) بنک ہی ہیں۔ اور بنک کی ملازمت مطلقا حرام ہے سودی نظام کی وجہ سے۔
یہ سود کے گناہ کے اس نظام کا حصہ بننا ہی ہے جو کہ منع ہے [المائدہ: 2]
اس لیے بطور کاروبار جیز کیش وغیرہ کا کام کرنے سے بچیں اگرچہ عام بنکوں میں براہ راست ملازمت کا حکم اس سے کہیں سخت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
یعنی ایزی پیسہ جاز کیش کمپنیز وغیرہ کو بطور جاب یا بزنس اختیار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی بینک ہیں۔
فضیلۃ الشیخ محمد نعیم راشد حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے نزدیک شیخ محترم نے جو جواب لکھا ہے، وہ مبنی بر احتیاط ہے اور تقویٰ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کام سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ ہزارہا دوسرے کام موجود ہیں، انسان کو چاہیے کہ وہ انہیں اختیار کرے۔
لیکن اگر کوئی ایزی پیسہ کا کام کر لیتا ہے تو اہلِ علم نے اس بارے میں کوئی خاص سخت فتویٰ نہیں دیا، کیونکہ جب آپ کے لیے پیسے بھیجنا، منگوانا اور ٹرانزیکشن کروانا جائز ہے تو یہ کام آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔
لہٰذا اس معاملے میں فرق ہے۔ یہ کلی طور پر بینک کا معاملہ نہیں ہے، البتہ جزوی طور پر اس میں بینک سے تعلق یا شبہ ضرور پایا جا سکتا ہے۔
اس لیے اس بارے میں کوئی خاص سخت فتویٰ نہیں ہے۔ ہاں، تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ایسا کام نہ کیا جائے، زیادہ سے زیادہ یہی بات کہی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




