والد کے بعد فتنے کے شکار بیٹے کو امام اوزاعی رحمہ اللہ کا خط

والدین، استاد یا رہنما کا اٹھ جانا صرف جدائی کا غم نہیں، بلکہ ایک آزمائش بھی ہے، کیونکہ جس کا ہاتھ سر پر تھا وہ ہٹ جائے تو قدم ڈگمگانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، بہت سی چیزیں جو اُن کے رعب، ہیبت اور احترام میں دبی ہوتی ہیں، سر اٹھانے لگتی ہیں اور ان کی نصیحتوں اور خیر خواہی پر مبنی مشورے سے محرومی خیر کے راستے سے دور کر دیتی ہے۔
اسی لیے سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما کی جنازے کی دعا میں یہ الفاظ ہیں:

«اَللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ».

’’اے اللہ! ہمیں اس دکھ پر صبر کے اجر سے محروم نہ کرنا، اور ہمیں اس کے بعد فتنے اور آزمائش میں نہ ڈالنا۔‘‘
(موطأ مالك : ١/‏٢٢٨، المصنف لابن أبي شيبة : ٦/‏٩٩)
اسی طرح نبی کریم ﷺ سے مروی جنازے کی دعاؤں میں سے ہے:

«اَللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ».

’’اے اللہ! ہمیں اس پر صبر کے اجر سے محروم نہ کرنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا۔‘‘ (سنن أبي داود : ٣٢٠١)
اس حدیث کو امام ابو داود رحمہ اللہ (٢٧٥هـ) نے امام اوزاعی رحمہ اللہ (١٥٧هـ) کی سند سے روایت کیا ہے، اور خود امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اپنے مرحوم دوست کے بیٹے عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد اہلِ بدعت کی رائے کی طرف جھک گئے اور جمعہ وجماعت سے پیچھے رہنے لگے ہیں تو انہیں نصیحت آمیز خط لکھا:
’’اما بعد! تمہارے والد سے میرا جو تعلق تھا اور ان کے دل سے جو خاص قربت تھی، وہ تم جانتے ہو۔ اس لیے میں نے سمجھا کہ ان سے صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہے کہ تمہیں نصیحت کرتا رہوں۔ چنانچہ جب پہلی بار مجھے خبر ملی کہ تم جمعہ اور باجماعت نماز سے پیچھے رہنے لگے ہو تو میں نے تمہیں توجہ دلائی، مگر تم نے تیزی دکھائی اور اپنی بات پر اڑ گئے۔
پھر میں نے تم سے نرمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرتے ہوئے نصیحت کی، تو تم نے ایسا جواب دیا جس پر نہ تمہارے پاس دلیل تھی اور نہ ہی کوئی عذر تھا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اپنی نصیحت کے ساتھ ایک تحریر بھی تمہارے حوالے کر دوں، شاید اللہ تعالی اس کے ذریعے کوئی خیر پیدا فرما دیں۔
ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ پانچ چیزیں ایسی تھیں جن پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور خیر میں ان کی پیروی کرنے والے تابعین قائم تھے: سنت کی پیروی، قرآن مجید کی تلاوت، جماعت کو لازم پکڑنا، مسجدوں کو آباد رکھنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
اور مجھے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جو یہ جاننا چاہے کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوا ہے یا نہیں تو وہ دیکھ لے: اگر وہ کسی ایسی چیز کو حلال سمجھنے لگا ہے جسے پہلے حرام سمجھتا تھا، یا کسی ایسی چیز کو حرام سمجھنے لگا ہے جسے پہلے حلال سمجھتا تھا، تو جان لے کہ وہ فتنے کا شکار ہو چکا ہے۔
اور تم اپنے والد رحمہ اللہ کی وفات سے پہلے جمعہ اور جماعت چھوڑنے کو حرام سمجھتے تھے، اب اسے حلال سمجھنے لگے ہو۔ تم مسجدوں کو آباد کرنا بہترین اعمال میں شمار کرتے تھے، اب ان سے کنارہ کش ہو گئے ہو۔ اور تم اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دینے والی اپنی جماعت کو چھوڑنا گناہ سمجھتے تھے، اب اسے اچھا سمجھنے لگے ہو۔
مجھے سفیان نے منقطع سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: جس نے بغیر عذر کے لگاتار چار جمعے چھوڑ دیے، اس نے اسلام کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔
اور مجھے امام زہری رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جس نے بغیر عذر کے تین جمعے چھوڑ دیے، اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
ان دو باتوں کی روشنی میں تم نے اپنی جان کو بہت بڑے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس لیے اپنی رائے کو مشکوک سمجھو، کیونکہ جس چیز کو تم نے اختیار کیا ہے، وہ بدترین چیز ہے، اور اپنے اسلاف کی پیشوائی پر راضی ہو جاؤ۔
گزرے ہوئے تین سال، جب مسجدیں اور گھر جلائے جا رہے تھے، خون بہائے جا رہے تھے اور مال لوٹے جا رہے تھے، تم اپنے والد کے ساتھ تھے۔ نہ جمعہ چھوڑنے میں ان کی مخالفت کرتے تھے، نہ مسجد کی نماز میں حاضری سے، اور نہ ان کے طریقے سے منہ موڑتے تھے، یہاں تک کہ وہ راہ آخرت کے مسافر بن گئے۔ اب تم یہ سمجھتے ہو کہ ’’اپنے گھر میں بیٹھے رہو‘‘ والی حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث کو تم اپنے والد سے، اور ان اہلِ علم سے جنہیں انہوں نے پایا تھا، زیادہ جانتے ہو!
میں تمہیں اللہ تعالی کی پناہ میں دیتا ہوں اور اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنے والد اور ان سے پہلے کے اہلِ علم کو چھوڑ کر اپنی الگ تھلگ رائے کو نہ تھامے رہو، اور اہلِ بدعت کے لیے قوت اور جمعہ چھوڑنے والے نادانوں کے لیے فتنہ نہ بنو، کہ جب انہیں جمعہ چھوڑنے پر عار دلائی جائے تو وہ تمہیں دلیل بنا کر پیش کریں۔
میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہاری مصیبت کو تمہارے دین میں نہ رکھیں، اور تم پر بدبختی اور اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کو غالب نہ کریں۔ والسلام علیك۔‘‘ (المعرفة والتاريخ للفسوي : ٢/‏٣٩١-٣٩٢)

… حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ