سوال 7262

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہمارے معاشرے میں یہ بات مشہور ہے کہ جھاڑو کو الٹا نہیں رکھنا چاہیے، ورنہ نحوست آتی ہے یا رزق میں کمی ہوتی ہے۔ کیا اس عقیدے کی قرآن و سنت میں کوئی اصل ہے؟ یا یہ صرف ایک معاشرتی رسم اور توہم پرستی ہے؟ اس بارے میں تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عوام الناس میں بے علم لوگ زیادہ ہوتے ہیں، چنانچہ وہ اپنے خودساختہ عقائد و نظریات بنا لیتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارا معاشرہ ہندومت سے بہت متاثر رہا ہے، چاہے پڑوس میں ہونے کی وجہ سے یا وہاں سے ہجرت کرنے کی وجہ سے۔
اسی بنا پر بہت سے خودساختہ عقائد و نظریات رائج ہو گئے ہیں کہ فلاں کام سے یہ ہو جاتا ہے اور فلاں چیز سے وہ ہو جاتا ہے۔
دینِ اسلام نے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ کہنا کہ جھاڑو الٹا رکھو تو یہ ہو جائے گا، سیدھا رکھو تو وہ ہو جائے گا، یا کوا بیٹھ جائے تو ایسا ہو جائے گا، یا کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو ویسا ہو جائے گا، یہ سب بدشگونیاں ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ»
اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی کہ بدشگونی لینا شرک ہے۔ لہٰذا یہ ایک باطل اور غلط عقیدہ ہے۔ جھاڑو الٹا رکھیں یا سیدھا، اس سے شرعاً کچھ نہیں ہوتا۔
البتہ انسان کی اپنی نفاست، سلیقہ اور تہذیب ہوتی ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ باقی اس حوالے سے کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ