سوال 7286

سیدہ اسماء بنت ابي بكر رضي اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے جمعہ کے بعد اسی مجلس میں (یعنی نماز کے بعد اسی جگہ بیٹھ کر) سورۃ الفاتحة سورة الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سات مرتبہ پڑھی۔ اس کا یہ جمعہ) اور آنے والے جمعہ کا درمیان محفوظ ہو جاتا ہے۔
امام وکیع بن الجراح کہتے ہیں: ہم نے اسکا تجربہ کیا تو اس کو اسی طرح پایا۔
ابن ابي شيبة 5493
فضائل القرآن لابن الضريس 290 فضائل القرآن القاسم بن سلام 440 و اسناده صحيح
مشائخ کرام کیا یہ مستند ہے؟

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کی سند میں انقطاع ہے، سند اتصال نہیں ہے متن میں بھی اضطراب ہے۔
لنک میں نے بھیج دیا ہے اس کو تفصیلن آپ دیکھ سکتے ہیں بارک اللہ فیکم
هل ثبت استحباب قراءة الفاتحة والمعوذات سبع مرات عقب صلاة الجمعة؟ – الإسلام سؤال وجواب https://islamqa.info/ar/answers/509217/%D9%87%D9%84-%D8%AB%D8%A8%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%A1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A9-%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B9%D9%88%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%A8%D8%B9-%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%B9%D9%82%D8%A8-%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D8%B9%D8%A9

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

یہ حدیثِ نبوی نہیں بلکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا اپنا عمل اور ارشاد ہے۔ اس لیے اسے نبی ﷺ کی سنت کہہ کر بیان کرنا درست نہیں۔
اس پر عمل کرنا بطور فضیلت جائز ہے، کیونکہ یہ ایک صحیح سند سے ثابت صحابیہ کا عمل ہے۔
البتہ اس کی فضیلت کو نبی کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا، اور نہ یہ کہا جائے گا کہ یہ ہر مسلمان کے لیے لازمی یا مسنون عمل ہے۔
یہ فرق ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ مرفوع حدیث اور موقوف اثر دونوں کا شرعی درجہ ایک نہیں ہوتا، اگرچہ صحیح سند سے صحابی کا عمل فضائل کے باب میں قابلِ احترام اور قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔
واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ