سوال (6595)

جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھنے کی دلیل یہ حدیث ہے، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ»

“جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دیا جاتا ہے۔”
حوالہ: مستدرک حاکم: 3392 بیہقی، سنن کبریٰ
علامہ حاکم نے صحیح کہا، اور امام ذہبی نے موافقت کی۔ یہ روایت ٹھیک ہے؟

جواب

اکثر اہلِ علم اس روایت کو قبول کرتے ہیں، البتہ شیخ امن پوری حفظہ اللہ نے اس پر جرح کی ہے۔ تاہم وہ عموماً اس کے پڑھنے کے جواز کے قائل ہیں، یعنی اگر کسی دن اسے پڑھ لیا جائے تو درست ہے، چاہے وہ دن جمعہ ہی کیوں نہ آ جائے۔ اس اعتبار سے پڑھنے کا جواز بہرحال موجود ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورۃ الکہف جمعہ والے دن پڑھنے کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا فی الدنیا والآخرہ۔
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جمعے والے دن سورۃ الکہف پڑھنا ثابت ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنْ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ

جو شخص جمعہ کی رات کو سورہ کہف پڑھے تو اس کے لئے اس سے لے کر بیت اللہ تک نور کی روشنی ہوتی ہے۔
(سنن دارمي حدیث نمبر : 3450 ، 3439)
سند میں هشیم اگرچہ مدلس ھیں لیکن انہوں نے اس ہی سند میں سماع کی تصریح کردی ہے۔

محدثین کی آراء:
امام بیہقی نے موقوفا اس روایت کو محفوظ قرار دیا ہے
(شعب الایمان : 86/4)
امام ابن حجر نے بھی اسکے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے
(كتاب التلخيص الحبير : 175/2)
امام شوکانی نے اس روایت کے رواۃ کو قابل حجت قرار دیا ہے
(تحفة الذاكرين : 405)
سنن دارمی نے محقق حسین اسد نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
(سنن دارمي حدیث نمبر : 3450 ، 3439)
علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
(إرواء الغليل : 94/3)
المقصود کہ جمعے والے دن سورۃ الکہف پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبد اللہ حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس حوالہ سے اگرچہ اختلاف ہے، عام لوگ کسی بھی اہل توحید صاحب علم کی تحقیق پر اعتماد کرسکتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہوئے جس پر شرح صدر ہو۔
لیکن صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ
جمعہ والے دن سورۃ کہف پڑھنے کی فضیلت کے حوالے سے کوئی بھی مرفوع یا موقوف روایت سنداً ثابت نہیں.
سنن دارمی#3450

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، – حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ.

جس نے جمعہ کے دن سورۃ کھف کی تلاوت کی,اللہ تعالی اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن فرمادیتا ہے.
مستدرک حاکم #3392 میں یہ روایت مرفوعاً بھی موجود ہے.

حَدَّثَنا أبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ المُؤَمَّلِ، ثنا الفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرانِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنْبَأ أبُو هاشِمٍ، عَنْ أبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبّادٍ، عَنْ أبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قالَ: *«إنَّ مَن قَرَأ سُورَةَ الكَهْفِ يَوْمَ الجُمُعَةِ أضاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ ما بَيْنَ الجُمُعَتَيْنِ»

لیکن یہ سنداً ثابت نہیں.
یہ روایت ہیشم(مدلس)نے ابوہاشم سے نہیں سنی.

کما قال احمد بن حنبل رحمۃ اللہ
قالَ أبِي لَمْ يَسْمَعْهُ هُشَيْمٌ مِن أبِي هاشِمٍ

(العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله# ٢/‏٢٥١)
ہیشم کا حدثنا ابوہاشم کہنا وہم ہے۔
ایسی خاص جرح کے مقابلہ میں مطلقا روایت کی توثیق معتبر نہیں۔
(اس خطا کی وجہ نعیم بن حماد ہوسکتا ہے جوکہ صدوق ہے لیکن خطائیں کرتا تھا, باقی اصلا احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا سماع کی نفی کرنا دلیل ہے)
دوسری بات یہ کہ جس روایت میں امام شعبہ نے متابعت کی ہے اس میں جمعہ کے الفاظ نہیں
اسی طرح ایک اور مرفوع روایت بھی ہے۔۔۔

مَن قَرَأ سُورَةَ الكَهْفِ يَوْمَ الجُمُعَةِ، غُفِرَ لَهُ مِنَ الجُمُعَةِ إلى الجُمُعَةِ۔۔۔۔

جس کی سند میں
إسماعيل بن عمرو البجلي ضعيف راوی ہے اور يوسف بن عطية متروك ہے۔
لہذا, سورۃ کھف جمعہ والے دن پڑھنے کی فضیلت پر تمام تر موقوف مرفوع روایات کی اسناد ضعیف ہیں.
(تفصیل کے لیے امن پوری حفظہ اللہ کا مضمون دیکھیں)
جمعہ کی تخصیص کے بغیر سورت کہف کی فضیلت پر تقریبا سات احادیث ثابت ہیں۔
لہذا جمعہ والے دن پڑھیں یا کسی بھی وقت مطلقا فضائل حاصل ہوجائیں گے،باذن اللہ

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب‬

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ