سوال 7366
السلام و علیکم مشاٸخ کرام
ایک عورت پندرہ دن پہلے گم ہو گئی تھی آج اس کی لاش ملی فصلوں سے اوپر والے دھڑ کا ماس نہیں ہے صرف ہڈیاں ہیں تو اس کے غسل کفن کا اہتمام کس طرح کیا جاۓ؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انا للہ وانا الیہ رجعون
جس طرح عام شخص کو غسل کفن دیا جاتا ہے، اس خاتون کو بھی ویسے ہی جتنا ہو سکے، غسل دے کر کفن دے دیا جائے.
ظاہر ہے جسم سارا خراب ہو گا، اگر ہاتھ لگانا ممکن نہیں یا جسم خراب ہونے کا خدشہ ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے جس قدر ممکن ہے، پانی چھڑک دیا جائے یا بہا جائے جائے.
اللہ رب العالمین سب کی حفاظت فرمائے.
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
غسل دینا ممکن ہی نا ہو تو تیمم کروا دیں۔ یہ بھی ممکن نہیں تو جتنے حصہ پر پانی بہا سکتے بس اتنے حصے پر بہا لیں۔
اضطراری صورت ہے جیسے بھی ممکن ہو معاملات کو میت کی حالت کے پیش نظر عمل کر لینا چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
بسم الله الرحمن الرحيم
اچھا اگر صورتحال ایسی ہی ہے جیسا کہ آپ کے سوال میں موجود ہے۔ لاش کا اوپری حصہ گل چکا ہے، صرف ہڈیاں باقی ہیں جبکہ جسم کا کچھ حصہ موجود ہے۔ تو اس اعتبار سے جسم کا جو حصہ موجود ہے اسے نہایت احترام سے غسل دیا جائے۔ اگر غسل دینے سے لاش مزید بکھرنے کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی بہا دینا کافی ہے۔ اگر پانی سے بھی نقصان کا اندیشہ ہو تو اہل علم کے نزدیک تیمم کروایا جا سکتا ہے۔ کفن پہنایا جائے، خواہ جسم مکمل نہ ہو اور دستیاب جسم کو کفن میں لپیٹ دیا جائے۔ نماز جنازہ ادا کی جائے کیونکہ یہ مسلمان میت ہے۔ پھر اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا جائے۔ اور اس کی دلیل جو ہے وہ سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ کی بڑی مشہور حدیث ہے۔ اس کے الفاظ جو ہیں حدیث کے میرے ذہن میں نہیں ہیں لیکن اس کا مفہوم کچھ ایسا ہے: میت کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسا زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ لہٰذا میت کے جسم کے باقی ماندہ جو حصے کے ساتھ مکمل احترام والا معاملہ کیا جائے۔ اور گو سوال میں یہ بات تو نہیں پوچھی گئی لیکن پھر بھی اگر لاش پولیس کی تحویل میں ہو یا غیر طبعی موت یعنی قتل کا معاملہ ہو تو پہلے قانونی کارروائی مکمل ہونے دی جائے پھر غسل، کفن، نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ کا اہتمام کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ


