سوال 7443

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اگر تین ماہ کا بچہ پہلے ہو اور وہ ماں کا دودھ پیتا ہو تو آگے سے پھر حمل ہو جائے اور ماں بھی کمزور ہو اس کا پہلے آپریشن بھی ہوا ہو تو کیا وہ خود سے اس حمل کو ضائع کرسکتے ہیں کیا اور اگر وہ کر دیتے ہین تو گناہ ہے کیا؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں شکریہ۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر سوال حمل گرانے کے بارے میں ہے تو دو باتیں ہیں
پہلی بات:
اس بہن کی صحت اچھی ہے بڑا آپریشن نہیں ہوا اس کی خوراک اور دیکھ بھال بھی اچھی ہے تو حمل ہرگز نہیں گرایا جائے گا۔ بلکہ رب العالمین نے سب کچھ جانتے ہوئے ہی یہ خوشخبری دی ہے جس پر شکر بجا لانا چاہیے ہے ۔
دوسری بات:
اگر آپریشن سے پہلے بچہ ہوا ،صحت بھی کمزور ہے
کوئی اور بیماری بھی اس خاتون کو ہے ،غذا بھی اچھی نہیں ہے اور ماہر اطباء، ڈاکٹر
اس صورتحال میں حمل گرانے کا کہیں تو تب غور کیا جا سکتا ہے بصورت دیگر قطعا ایسا نہ کریں۔
بلکہ اس بہن کی صحت و خوراک کا خوب خیال رکھیں
تا کہ دونوں کی اچھی نشوونما ہو۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، احتیاطی تدبیر اختیار کرنا جائز ہے، لیکن حمل قرار پانے سے پہلے۔ جائز وجوہات کی بنا پر اس کی گنجائش ہے، اور اس سلسلے میں عزل کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض صورتوں میں کراہت کے ساتھ فتویٰ دیا جاتا ہے، لیکن بہرحال اس کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
لیکن جب حمل قرار پا جائے تو اس کے بعد اسے گرانے یا ساقط کرنے کی کوئی عام گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ایک جان کے قتل کے مترادف ہے۔
البتہ ایک استثنائی صورت ہے، اور وہ یہ کہ دو ثقہ، عادل اور ماہر ڈاکٹر واضح طور پر یہ بتائیں کہ حمل برقرار رہنے کی صورت میں ماں کی جان کو یقینی یا غالب خطرہ ہے اور اس کے نتیجے میں ماں کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں علماءِ کرام نے 80 دن کے اندر حمل ساقط کرنے کی گنجائش بیان کی ہے۔
لیکن یہ بالکل آخری صورت ہے، اس لیے اسے معمولی یا ہلکا معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جیسا کہ شیخ نے مدت کی وضاحت کی ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ہی اس مسئلے میں فیصلہ کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ