سوال 7449

السلام علیکم
محترم شیوخ! عورتوں کے کنگھی سے ٹوٹے ہوئے سر کے بال بیچنا کیسا ہے تفصیل سے بتائیں۔۔۔
جزاکم اللّٰہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
انسان اور اس کے تمام اعضاء قابلِ احترام ہیں، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ

اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی
[سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر: 70]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا

مردے کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے
[سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 3207]
چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و حرمت عطا فرمائی ہے، اور اس کے جسم کے تمام اعضاء بھی اسی حرمت میں شامل ہیں، اس لیے انسانی اعضاء کی خرید و فروخت جائز نہیں، بال بھی انسان کے جسم کا ایک حصہ ہیں، لہٰذا ان کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے، اسی بناء پر گھروں سے بال خریدنا یا کوڑے کرکٹ سے جمع کر کے آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں
اس کے علاوہ یہ بال اکثر ناجائز کاموں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً
1 : وگ بنانے میں
2 : جادو میں
3 : دھوکہ دہی کے لیے مصنوعی بال استعمال کرنا وغیرہ پہلے دور میں بالوں کے ساتھ دوسرے بال پیوند کیے جاتے تھے جسے اسلام نے منع فرمایا، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے:

لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ

مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت بھیجی ہے
[صحیح البخاری حدیث نمبر: 5936]
یہ تمام کاموں حرام ہیں اور حرام کاموں میں تعاون کرنا بھی حرام ہے، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو
[سورۃ المائدہ آیت نمبر: 2]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ