سوال 7340
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم اگر ہم کسی بندے کو کچھ رقم دیتے ہیں، وہ آگے ان پیسوں کا کاروبار کرتا ہے اور ہمیں ہر ماہ کوئی فکس فرافٹ نہیں کبھی چار ہزار کبھی تین ہزار کبھی پانچ ہزار دیتا ہے تو کیا یہ ٹھیک ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
نہیں۔
آپ نفع پر فیصدی تناسب طے کر کے لیں اور نقصان میں بھی شریک ھوں تو پھر درست ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وہ ہر ماہ کبھی چار ہزار، کبھی تین ہزار اور کبھی پانچ ہزار منافع دیتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب آپ نے کسی شخص کو سرمایہ (انویسٹمنٹ) کے لیے رقم دی تھی تو اس وقت آپ کے درمیان کیا شرائط طے ہوئی تھیں؟ وہ شرائط سامنے آنی چاہییں۔
اسی بنیاد پر شرعی حکم متعین ہوگا۔ اس لیے کہ انویسٹمنٹ میں یہ بات کہ کبھی چار ہزار، کبھی تین ہزار اور کبھی پانچ ہزار مل رہا ہے، کچھ شبہات پیدا کرتی ہے۔ لہٰذا جس شخص کو آپ نے رقم دی ہے، اس کے ساتھ ہونے والا معاہدہ (Agreement) یا طے شدہ شرائط سامنے لائیے، پھر حتمی رائے دینا آسان ہوگا۔
بظاہر سوال میں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی چار ہزار، کبھی تین ہزار اور کبھی پانچ ہزار منافع دیا جا رہا ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کس بنیاد پر دیا جا رہا ہے۔
مثلاً اگر آپ نے ایک لاکھ روپے سرمایہ دیا تھا اور باہمی طور پر منافع کا کوئی فیصد طے کیا تھا، تو پھر اس فیصد کے مطابق کسی مہینے چار ہزار، کسی مہینے تین ہزار اور کسی مہینے آٹھ ہزار ملنا ایک الگ صورت ہے، جو درست ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر بغیر کسی واضح معاہدے، بغیر شرائط طے کیے، یا بغیر منافع کی نسبت مقرر کیے صرف مختلف رقوم دی جا رہی ہیں، تو پھر یہی سوال ہوگا کہ آپ کے درمیان اصل معاہدہ اور شرائط کیا طے ہوئی تھیں؟ وہ سامنے آئیں، پھر اس کے مطابق حتمی رائے دی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ



