سوال 7517

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے
دو فیملیز کے درمیان تلخ کلامی چل رہی ہے
اور باتیں بہت ساری ہیں پرانی بھی نئی باتوں سے باتیں نکلتی جاتی ہیں، تو اس میں صلہ رحمی کیسے کی جائے اور ان معاملات کو کیسے ختم کیا جائے اگر ایک ایک بات کی وضاحت دیتے جائیں گے تو بات اور لمبی ہوتی جائے گی جھگڑے اور بڑھتے جائیں گے،
ان معاملات میں صلہ رحمی کیسے کرتے ہیں
رشتہ داروں کو کیسے جوڑتے ہیں
1: اگر ایک فیملی حق پر ہے دوسری ناحق ہے تو وہ کیسے درگزر کرے کیسے معاف کرے کہ صلح رحمی ہو جائے،
2: اس میں خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر درگزر کر کے صلح کی پیشکش کی جائے تو وہ یہ سمجھیں گے کہ یہ جھوٹے ہیں اور پھر انہی باتوں کو اگے دوسرے رشتہ داروں وغیرہ میں پھیلائیں گے
3: تو اس صورتحال میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا سکھاتی ہے کیسے ہم ان مسائل کو حل کریں۔
خاندانی لڑائی جھگڑوں کو حل کرنے نبوی طریقہ کیا ہے۔
اہل علم سے رہنمائ درکار ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایسی صورت میں اللہ سے دعا کرکے آپس میں بیٹھ کر بہتر انداز میں ایک دوسرے کے سامنے باتیں رکھی جاسکتی ہیں دل صاف کرنے، غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے۔ بجائے اس کے کہ سرسری طور پر زبان سے درگزر کریں اور ان باتوں کو دل میں رکھ کر تعلقات محدود در محدود کرتے جائیں۔ بسا اوقات بہتر انداز میں شکوہ بھی صلہ رحمی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
البتہ زیادہ گہرائی میں جاکر بے مقصد باتیں تو نہ کی جائیں جن سے تعلقات مزید بگڑنے کا خدشہ ہو۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے شریعت کا حکم سمجھ کر بہتر انداز میں بیٹھ کر معاملات کو حل کرلینا چاہیے، ضرورت ہو تو درمیان میں کوئی صاحب بصیرت شخص بطور ثالث بٹھا لینا چاہیے۔ جہاں جہاں خود کی غلطی سامنے آئے اس پر معزرت کرلی جائے جہاں دوسروں کی غلطی ہو وہاں اللہ کی رضا کے لیے درگزر کرتے جائیں وسعت نظری سے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ