سوال 7475

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب میرا سوال یہ ہے کہ
موجودہ کمیشن کی صورتحال جو یہ ہے کہ کمیشن لینے والا دوکاندار کو فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں گاہک لے کر آرہا ہوں سودا کروانے اور مجھے 1000 روپے دینا اور گاہک کو کہتا ہے کہ میں آپ کو فلاں چیز دلوا دیتا ہوں 1000 روپے لوں گا اور ان پیسوں کا دوکاندار کو نہیں پتہ اور دوکاندار کے پیسوں کا گاہک کو نہیں پتہ کیا یہ صحیح ہے
دوسرا سوال یہ ہے کہ
کمیشن ایک طرفہ صحیح ہے مثلا دوکاندار کو کہتا ہے سامان بکوا دیتا ہوں گاہک لے آتا ہوں 1000 لوں گا
یا
یہ کہتا ہے گاہک کو میں سامان دلوا دیتا ہوں لیکن 1000 روپے لوں گا ان پیسوں کا بھی ایک دوسرے کو نہیں پتہ
تیسرا سوال مختصر یہ ہے کہ کمیشن کی تعریف کیا ہے کمیشن کا مطلب کیا ہے ہم تو اس کو کمیشن کہتے ہیں جو صورتیں ذکر کی ہیں
قرآن و حدیث سے مدلل جواب عرض کریں
جزاک اللہ خیرا کثیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا، آپ کے سوال میں اصل فرق دو کیفیات کے درمیان ہے۔ ایک تو وکالت پر اجرت یا جائز وکالت پر اجرت، اور دوسری ایسی وکالت جس میں دھوکہ یا خیانت کا معاملہ ہو، یا اسے خفیہ و پوشیدہ کمیشن خوری کہا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلی بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کمیشن لینے والا شخص دکاندار سے چھپ کر یہ طے کرے کہ میں گاہک لاؤں گا، آپ مجھے ہزار روپے دینا، اور دوسری طرف گاہک سے بھی چھپ کر کہے کہ میں آپ کو سودا دلوا دوں گا، مجھے ہزار روپے دے دینا، تو یہ صورت درست نہیں۔
خصوصاً جب دونوں فریق اسے اپنے مفاد میں کام کرنے والا سمجھ رہے ہوں۔ البتہ اگر اس شخص کی شہرت ہی یہ ہو کہ وہ سروس پرووائیڈر یا کمیشن ایجنٹ ہے، دکاندار کو بھی پہلے سے معلوم ہے کہ اگر یہ کسٹمر لائے گا تو مجھے اسے ایک رقم دینی ہوگی، اور کسٹمر کو بھی پہلے سے معلوم ہے کہ اگر یہ مجھے کسی اچھی جگہ یا اچھی دکان پر لے کر جائے گا تو مجھے اسے کچھ رقم ادا کرنی ہوگی، تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔
لیکن جہاں معاملہ چھپانے والا اور خفیہ ہو، وہاں یہ درست نہیں؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»

اور قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾

لہٰذا دونوں سے کمیشن لینے کی حقیقت واضح ہونی چاہیے۔ دونوں اس پر راضی ہوں تو دونوں کی طرف سے کمیشن لیا جا سکتا ہے، لیکن چھپا کر لینا اور اعتماد کا فائدہ اٹھانا قطعاً جائز نہیں ہے۔
رہی صرف ایک طرف سے کمیشن لینے کی صورت، تو یہ اصولاً جائز ہے۔ مثلاً دکاندار سے کہا جائے کہ میں آپ کے لیے گاہک لاؤں گا، آپ کا سامان فروخت کرواؤں گا، اس کے عوض مجھے ہزار روپے کمیشن دیں گے۔ دکاندار اس پر راضی ہو جائے تو یہ سادہ اور جائز صورت ہے۔
اسی طرح اگر دکاندار کے بجائے خریدار سے کہا جائے کہ میں آپ کے لیے مناسب سامان تلاش کرکے دلواؤں گا، میری اجرت ہزار روپے ہوگی، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ خریدار رضامند ہو جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
اور ہمارے پاس دونوں سے کمیشن لینے کی ایک واضح مثال اسٹیٹ ایجنٹ کی ہے، جو لوگوں کو کرائے پر مکان دلواتا ہے اور مکانات فروخت کرواتا ہے۔ اگر سب کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بائر اور سیلر دونوں سے کمیشن لیتا ہے، تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔
اچھا، کمیشن کے حوالے سے یہ بات بھی سمجھ لیں کہ کمیشن یا اجرت کیا چیز ہے؟ کسی شخص کے لیے خرید و فروخت میں کسٹمر لانا، سودا کروانا یا کوئی معاونت کرنا، اس کے عوض کوئی معاوضہ طے کر لیا جائے، تو وہ کمیشن یا اجرت ہے۔ یہ معاوضہ قانون میں واضح ہو، عرف میں معروف ہو، یا باہمی طور پر طے کر لیا گیا ہو، تینوں صورتوں میں اسے اصطلاحاً کمیشن کہا جا سکتا ہے۔
لہٰذا کمیشن بذاتِ خود حرام نہیں ہے؛ حرام یا جائز ہونے کا مدار اس کے طریقۂ کار پر ہے۔ اگر کمیشن واضح ہے، باہمی رضامندی کے ساتھ ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس کا علم ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
لیکن اگر دونوں میں سے کسی ایک فریق کو اس کمیشن کا علم نہیں اور اس سے پوشیدہ طور پر رقم لی جا رہی ہے، تو جس کو علم ہے اس سے طے شدہ کمیشن لینا جائز ہو سکتا ہے، لیکن جس کو اس کا علم نہیں، اس سے چھپا کر کمیشن لینا جائز نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ