سوال 7341
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
پانی کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں حدیث میں کیا حکم ہے۔ تفصیلاً راہنمائی فرمائیں
جواب
کھڑے ہوکر کھانا پینا پسندیدہ عمل نہیں ہے، بہتر ہے کہ بیٹھ کر ہی پانی پیا جائے، کوئی مجبوری ہو تو کھڑے ہوکر پیا جاسکتا ہے
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا زمزم کا پانی کھڑے ہوکر کیا
طرح صحابہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھڑے ہوکر کھایا پیا کرتے تھے۔
كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے
[سنن ابن ماجه حدیث نمبر : 3301]
لیکن بلا ضرورت کھڑے ہوکر کھانا پینے سے بچنا چاہیے
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ قتادہ نے کہا: ہم نے پوچھا اور (کھڑے ہو کر) کھانا؟ تو (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ زیادہ برا اور گندا (طریقہ) ہے۔
[صحيح مسلم حدیث نمبر: 5275]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ
تم میں سے کوئی ایک کھڑا ہو کر ہرگز نہ پیے اور جو بھول کر ایسا کر لے، وہ قے کر دے
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 5279]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الجواب بعون الوهاب
کھڑے ہوکر پانی بالکل جائز اور درست ہے ۔ لیکن بیٹھ کر پینا زیادہ افضل اور بہتر ہے۔
جن احادیث میں پانی کھڑے ہوکر پینے کی ممانعت ہے ان کو جواز کی طرف پھیرنے کے لیے یہ ایک حدیث ہی کافی ہے جو نیچے درج کی ہے۔
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا،کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا،ان سے عبدالملک بن میسرہ نے،ان سے نزال نے بیان کیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مسجد کوفہ کے صحن میں حاضر ہوئے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔
[صحیح البخاری : 5615]
والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم محمد سفیان بن امان اللہ حفظہ اللہ
بارك الله فيكم
اس مسئلہ پر میرا مفصل مضمون تھا جو غالبا ماہنامہ تفہیم الإسلام میں چھپا تھا
بصورت دیگر چھ سالہ تحقیقات ومضامین کے ساتھ یہ مضمون بھی ضائع ہو چکا ہے
عرض ہے کہ ممانعت والی احادیث کا تعلق مکروہ تنزیہی کے ساتھ ہے ناں کہ مکروہ تحریمی کے ساتھ
یعنی کھڑے ہو کر پینا جائز ہے البتہ بیٹھ کر پینا افضل ہے۔
جمیع احادیث وآثار صحابہ وسلف صالحین کے تعامل کا یہی خلاصہ ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



