سوال 7529

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا عورت خلع کے بعد بغیر کسی دوسرے مرد سے نکاح کیے، اسی سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟
اگر ایسا کرنا جائز ہے تو کیا خلع کی حیثیت ایک طلاق کی ہوگی، یا اس کا حکم طلاق سے مختلف ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی احکام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
خلع راجح قول کے مطابق فسخِ نکاح ہے، طلاق نہیں ہے۔ لہٰذا خلع کے بعد اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عورت کا اسی سابق شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے نئے نکاح کی تمام شرائط لاگو ہوں گی، یعنی نیا عقد اور نیا مہر وغیرہ ہوگا۔
البتہ یہ بات رجوع کی صورت نہیں ہوگی، بلکہ خلع کے بعد نئے نکاح کے ذریعے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم ہوگا۔
اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واضح فتویٰ موجود ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں، پھر اس عورت نے خلع لیا؛ کیا وہ دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ تو ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ہاں، نکاح کر سکتا ہے، کیونکہ خلع طلاق نہیں ہے۔
سیدنا ابن عباسؓ کے فتویٰ اور اس کی سند کا حوالہ
https://dorar.net/h/b1QeUKTR?osoul=1&utm_source=chatgpt.com

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ