سوال 7535

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک کیمرہ مین بھائی پہلے سے جمعہ وغیرہ کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ اگر وہ خطبہ جمعہ یا کسی دوسرے بیان کے دوران بغیر کسی سے بات کیے، کسی کو تنگ کیے بغیر اور اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے موبائل نکال کر جمعہ کے مناظر کی ویڈیو بنا لیں، تو کیا یہ عمل لغو حرکت کے اندر شمار ہوگا؟
براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا، یہاں پر دیکھیں، اگر کوئی کیمرہ مین خطبہ جمعہ کے دوران اپنی جگہ بیٹھ کر، خاموشی سے، کسی کو تکلیف دیے بغیر موبائل سے جمعہ کے مناظر کی ویڈیو بنا رہا ہو تو اس میں چند باتیں سمجھنی چاہئیں۔
اصل حکم خطبے کے حوالے سے یہ ہے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم نے اپنے ساتھی سے کہا کہ “خاموش رہو” تو تم نے لغو کام کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبے کے دوران غیر ضروری مشغولیت سے بچنا اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ویڈیو بنانا بھی لغو میں داخل ہے یا نہیں؟
دیکھیں، اگر ویڈیو ذاتی شوق یا غیر ضروری طور پر بنائی جا رہی ہو تو ڈیفینیٹلی واقعتا خطبہ سننے کے بجائے موبائل میں مشغول ہونا، خلافِ مقصودِ خطبہ ہے اور لغو کے قریب بھی ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
لیکن اگر ایسا ہے کہ کسی شخص نے خطبہ جمعہ سے پہلے اپنا کیمرا یا موبائل ریکارڈنگ کے لیے ایڈجسٹ کر دیا، وہ کسی سے بات نہیں کرتا، کسی کو تنگ نہیں کرتا، نماز پڑھنے والوں کے آگے سے نہیں گزرتا، لوگوں کی توجہ بھی نہیں بٹاتا، موبائل یا کیمرے کے استعمال سے کسی کو کوئی پرابلم بھی نہیں ہو رہی اور خاموشی سے ریکارڈنگ ہو رہی ہے، اور ریکارڈنگ کرنے والا خود بھی بیٹھ کر خطیب کی گفتگو سن رہا ہے، تو محض کیمرہ یا موبائل چلانے کی وجہ سے اسے لغو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لیکن اگر وہ ایسی کیفیت میں ہے کہ کیمرا باقاعدہ نمازیوں کی طرف(پھیررہا ہے) موو کر رہا ہے، مسجد کے مختلف مناظر دکھا رہا ہے، تو پھر ڈیفینیٹلی اس کی توجہ خطیب کی گفتگو سے مس ہو رہی ہے، وہ خطیب کی گفتگو نہیں سن رہا، تو پھر اسے لازمی بات ہے کہ کسی نہ کسی اعتبار سے لغو کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص کیمرہ مین ہے یا موبائل جس کے پاس ہے، وہ بھی تو مسلمان ہے، اس پر بھی جمعہ اسی طرح فرض ہے جیسے باقی دیگر لوگوں پر ہے۔ ایسا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کسی ہندو، عیسائی یا یہودی کو ہم اس کام کے لیے لے لیں تو وہ ایک الگ معاملہ ہو جائے گا۔
بہرحال خلاصہ یہی ہے کہ اگر اس طریقے سے ریکارڈنگ کی جائے کہ اس کا اپنا خطبۂ جمعہ سننے کا معاملہ بھی چل رہا ہو، کوئی غیر ضروری حرکت نہ ہو رہی ہو، اور مقتدی و نمازی حضرات کی توجہ بھی نہ بٹ رہی ہو، تو پھر اس میں کوئی ایشو نہیں ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ