سوال 7523
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے،
نکاح کے موقع پر جو خطبہ پڑھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ 3 آیات کریمہ قرآن مجید میں سے، ان کا صحیح سند ثبوت ملتا ہے اس کی وضاحت فرمائیں؟
جواب
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس خطبہ کو خطبة الحاجة کہا جاتا ہے
امام شعبہ نے کہا:
ﻗﻠﺖ ﻷﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﻫﺬﻩ ﻓﻲ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ ﺃﻭ ﻓﻲ ﻏﻴﺮﻫﺎ؟ ﻗﺎﻝ: ﻓﻲ ﻛﻞ ﺣﺎﺟﺔ
مسند أبي داود الطيالسى :(336) سنده صحيح
اس آثر کی سند ابو اسحاق تک صحیح ہے
اس روایت کو أبو عبیدہ عن ابن مسعود ،عنہ أبی اسحاق عنہ أبی الأحوص عن ابن مسعود بیان کیا گیا ہے۔
امام ترمذی نے کہا:
ﻭﻛﻼ اﻟﺤﺪﻳﺜﻴﻦ ﺻﺤﻴﺢ ﻷﻥ ﺇﺳﺮاﺋﻴﻞ ﺟﻤﻌﻬﻤﺎ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻷﺣﻮﺹ، ﻭﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ
[سنن ترمذی: 1105]
امام بیھقی نے کہا:
ﻭﺭﻭاﻩ ﺇﺳﺮاﺋﻴﻞ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻷﺣﻮﺹ، ﻭﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻋﻠﻤﻨﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﺤﺎﺟﺔ
[السنن الکبری للبیھقی: 7/ 236]
کتب السنن میں ائمہ محدثین نے اس حدیث کو
ﺑﺎﺏ ﻓﻲ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ (سنن أبو داود :(2118) ، ﺑﺎﺏ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ( سنن ابن ماجہ :1892) ،ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﺟﺎء ﻓﻲ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ( سنن ترمذی :1105) ،ﺑﺎﺏ ﻓﻲ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ( سنن دارمی:2248)
،ﺑﺎﺏ ﺧﻄﺒﺔ اﻟﻨﻜﺎﺡ ﻭاﻟﺤﺎﺟﺔ( شرح السنة للبغوى :2268) میں لائے ہیں ۔
یاد رہے ابو عبیدہ بن عبد الله بن مسعود کے اپنے والد سے سماع نہ ہونے پر ایک جماعت نے اس پر منقطع کا حکم لگایا ہے۔
جبکہ دوسری طرف عدم سماع کے باوجود ان کی اپنے والد سے روایت قبول کی گئ ہے
حافظ ابن رجب نے کہا:
ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﻟﻢ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻟﻜﻦ ﺭﻭاﻳﺎﺗﻪ ﻋﻨﻪ ﺻﺤﻴﺤﺔ۔
فتح الباري:7/ 174
اور کہا:
ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﻟﻢ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻟﻜﻦ ﺭﻭاﻳﺎﺗﻪ ﻋﻨﻪ ﺃﺧﺬﻫﺎ ﻋﻦ ﺃﻫﻞ ﺑﻴﺘﻪ، ﻓﻬﻲ ﺻﺤﻴﺤﺔ ﻋﻨﺪﻫﻢ
فتح الباري لابن رجب:8/ 350
بلکہ حافظ ابن رجب نے مزید تفصیل یوں بیان کی ہے
ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﻲ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻫﻮ ﻣﻨﻘﻄﻊ، ﻭﻫﻮ ﺣﺪﻳﺚ ﺛﺒﺖ.
ﻗﺎﻝ ﻳﻌﻘﻮﺏ ﺑﻦ ﺷﻴﺒﺔ: ﺇﻧﻤﺎ اﺳﺘﺠﺎﺯ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﺃﻥ ﻳﺪﺧﻠﻮا ﺣﺪﻳﺚ ﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﻨﺪ، ﻳﻌﻨﻲ ﻓﻲ اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﻤﺘﺼﻞ، ﻟﻤﻌﺮﻓﺔ ﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﺤﺪﻳﺚ ﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺤﺘﻬﺎ، ﻭﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺄﺕ فيها ﺑﺤﺪﻳﺚ ﻣﻨﻜﺮ۔
شرح علل الترمذي :1/ 544
اس کلام سے واضح ہوا کہ ائمہ حفاظ نے ابو عبیدہ کی اپنے والد سے روایات کا دراسہ و تتبع کیا تھا اور ان کی روایات جو مناکیر سے خالی پایا حالانکہ عدم سماع کا مسئلہ ان کے علم میں تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی نسبت بیٹا اپنے والد کی روایات کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔
اور ابو عبیدہ بن عبد الله بن مسعود عن أبيه کی مرویات پر دراسہ و سبر ام القری یونیورسٹی میں ایم فل کے مقالہ میں لکھا جا چکا ہے شائقین علم حدیث ورجال اسے ضرور پڑھیں ۔
الحاصل:
اسرائیل عن أبی اسحاق عن، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻷﺣﻮﺹ، ﻭﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ( مسند أحمد بن حنبل :(4116 ،السنن الكبرى للنسائى :10254 صحیح) کے طریق سے مروی روایت صحیح ہے اگر ابو عبیدہ کے طریق سے صحیح نہ بھی مانیں تو
یہ روایت ﺷﻌﺒﺔ، أخبرنا ﺃﺑﻮ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺒﻴﺪﺓ، ﻭﺃﺑﻲ اﻷﺣﻮﺹ کے طریق سے بھی مروی ہے یعنی اسرائیل کی طرح شعبہ بھی روایت کرتے ہیں
اور ابو الأحوص کے طریق سے مروی روایت پر مسند أحمد بن حنبل :(3721) کے محققین نے صحیح کا حکم لگایا ہے۔
بلکہ اسرائیل کی متابعت امام سفیان نے بھی کر رکھی ہے
[مسند الشاشي: 710 ، 711]
اگرچہ زیادہ طرق میں اس طریق سے مروی نہیں ہے۔
تو یہ خطبہ ثابت ہے امام شعبہ جیسے ناقد نے اس خطبہ کے متعلق ابو اسحاق السبیعی سے پوچھا تو تو انہوں نے کہا کہ ہر جائز حاجت پڑھا جا سکتا ہے
جس پر امام شعبہ نے کوئی اختلاف و انکار نہیں کیا ہے۔
تو یہ خطبہ نکاح کے موقع پر نکاح پڑھانے سے پہلے پڑھنا راجح ہے اور اس میں آیات بھی موجود ہیں کیونکہ روایت ایک ہی ہے طرق واسانید کئ ہیں اور ہمارے نزدیک ابو عبیدہ عن أبیہ والی سند بھی معتبر ہے تصریحات اوپر ذکر دی گئ ہیں ۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




