سوال 7466
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ جو خواتین جاتی ہیں عمرہ کرنے کے لیے ان کا وہاں پہ نماز ہوٹل میں پڑھنا جیسے یہاں پہ مطلب عورت کا نماز گھر میں پڑھنا، مسجد میں پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔ تو وہاں پہ بھی یہی رول اپلائی ہوگا کہ اگر وہ حرم میں جا کے پڑھنے کی بجائے ہوٹل میں پڑھ لیں۔ نماز تو وہ اس کا اجر ویسا ہی ہے ان کے لیے جو یہاں پہ فضیلت ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض اہلِ علم حدودِ حرم کا دائرہ وسیع رکھتے ہیں، یعنی صرف مسجدِ حرام ہی کو حرم نہیں کہتے۔ یہ بعض علماء کا موقف ہے۔ تو اگر اس موقف کو اختیار کیا جائے تو یقیناً وہ محروم نہیں رہیں گی؛ اگر وہ ہوٹل میں بھی نماز ادا کر لیتی ہیں تو ان شاء اللہ نماز ادا ہو جائے گی۔
لیکن چونکہ مسلمان کو ذوق و شوق ہوتا ہے کہ میں بیت اللہ کو دیکھوں بھی اور مسجدِ حرام میں جاؤں بھی، تو اگر مرد و زن کا اختلاط نہ ہو اور بہت زیادہ دھکم پیل نہ ہو، بلکہ سہولت کے ساتھ جا سکتی ہوں تو مسجدِ حرام میں جا کر نماز ادا کریں۔
ورنہ بہتر ہے کہ وہ ہوٹل ہی میں نماز ادا کر لیں۔ ان شاء اللہ نماز بھی ادا ہو جائے گی اور اجر بھی، ان شاء اللہ، اسے پورا ملے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

