سوال 7451

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم کیا یہ حدیث ہے کہ جس نے بارہ سال اذان دی اس پر جنت واجب ہوگی؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ان الفاظ سے روایت موجود ہے۔
جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئی لیکن یہ ثابت نہیں۔
ابن ماجہ: 728
ابن جریج(مدلس) کا عنعنہ ہے۔ سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
سندہ،ضعیف
موذن کی فضیلت پر دیگر احادیث تو ثابت ہیں۔ جیسے:
[صحیح البخاری : 609]

فَإِنَّهُ: لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ المُؤَذِّنِ،جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ،إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ القِيَامَةِ،قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو مؤذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گی۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
اس روایت کے بارے میں امام أبو حاتم الرازی نے کہا:
ﻫﺬا منكر ﺟﺪا
[علل الحديث لابن أبي حاتم الرازی :2/ 273]
یہ روایت امام ابن حبان،امام ابن عدی، ابن القیسرانی، حافظ ذہبی،حافظ ابن حجر کے نزدیک ضعیف و منکر ہے بلکہ امام بخاری کے نزدیک معلول و منقطع ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ