سوال 7455
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخ کرام سے ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آٹھ رکعت نماز ادا کی ۔۔۔۔۔تو کیا اس حدیث سے دلیل لی جا سکتی ہے کہ آزادی وطن یعنی 14 اگست کے دن شکرانے کے نوافل ادا کیے جائیں.
اور دوسرا کہ جس طرح حدیث میں ہے کہ دس محرم کا روزہ فرعون سے نجات کے شکرانے کے طور پر ہے تو کیا 14 اگست کو زورہ رکھنے کی دلیل بنایا جا سکتا ہے ؟؟
راہنمائی فرمائیں
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سوال کے حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ صحیح بخاری کی جس حدیث میں فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کے آٹھ رکعت نماز پڑھنے کا ذکر ہے، بعض روایات میں اس کی صراحت موجود ہے کہ یہ صلاۃُ الضحیٰ، یعنی چاشت کی نماز تھی۔ یہ نماز فتح مکہ کی مناسبت سے بطورِ خاص ادا نہیں کی گئی تھی، بلکہ وہ پہلے سے مشروع نماز تھی۔ صلاۃ الضحیٰ یا چاشت کی نماز دو، چار، چھ اور آٹھ رکعت تک پڑھنا ثابت ہے۔
لہٰذا فتح مکہ کے حوالے سے بطورِ خاص کامیابی کے شکرانے کے لیے کوئی مخصوص نماز ادا کی گئی ہو تو یہ الگ دعویٰ ہے، جس کے لیے مستقل دلیل درکار ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن وہی مشروع نماز ادا فرمائی جو پہلے سے مشروع تھی، کوئی نئی نماز مقرر نہیں فرمائی۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیا 14 اگست کو شکرانے کے طور پر دو، چار یا آٹھ رکعت نوافل مخصوص کیے جا سکتے ہیں؟ اس کی کوئی خاص شرعی دلیل موجود نہیں۔ چونکہ یہ عبادت کا معاملہ ہے اور عبادات میں اصل دلیل کا ہونا ہے، اس لیے کسی عبادت کو کسی خاص دن، وقت، تعداد یا خاص سبب کے ساتھ مخصوص کرنے کے لیے دلیل ضروری ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص 14 اگست کی تخصیص کیے بغیر عام نفل نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ نفلی نماز اپنی اصل کے اعتبار سے مشروع ہے۔ لیکن اگر 14 اگست کے ساتھ خاص کرکے اسے ایک شرعی عمل، سنت یا مخصوص شکرانے کی نماز سمجھا جائے تو اس کے لیے دلیل درکار ہوگی، جبکہ ایسی کوئی مخصوص سنت ثابت نہیں۔
رہی یہ بات کہ عاشورہ کے روزے سے 14 اگست کے روزے پر قیاس کیا جا سکتا ہے یا نہیں، تو بظاہر مشابہت محسوس ہوتی ہے، لیکن غور کرنے سے دونوں میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ»
پھر آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا۔
یہاں عاشورہ کا روزہ محض کسی خوشی یا قومی کامیابی کے موقع پر روزہ رکھنے کے ایک عمومی اصول کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس دن کے روزے کو مشروع قرار دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔
لہٰذا عاشورہ سے یہ عمومی قاعدہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جب بھی مسلمانوں کو کوئی قومی یا تاریخی کامیابی حاصل ہو، تو اس کی سالگرہ پر ہر سال مخصوص روزہ رکھا جائے۔ اگر ایسا عمومی اصول ہوتا تو نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین سے دیگر فتوحات اور نعمتوں کی سالانہ یاد میں مخصوص روزے منقول ہوتے، لیکن ایسا نہیں ملتا۔
اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر ادا کرنا یقیناً اچھی اور مشروع بات ہے:
﴿وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾
پاکستان کا وجود مسلمانوں کے لیے ایک اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن شکر ادا کرنے کا مشروع طریقہ اور 14 اگست کو ایک مخصوص دینی عمل مقرر کرنا، یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
لہٰذا 14 اگست کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، عام نفل نماز پڑھنا، دعا کرنا، صدقہ کرنا، وطنِ عزیز کی خیر و اصلاح کے لیے دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور مشروع اعمال ہیں۔ لیکن انہیں 14 اگست کی سنت، شرعی شکرانہ یا اس دن کے مخصوص نوافل قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس تخصیص کی کوئی شرعی دلیل ہمارے پاس موجود نہیں۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
فتح مکہ کے بعد بھی کم از کم تین مرتبہ عھد نبوی میں وھی دن لوٹ کر آیا مگر شکر کے نوافل یا روزہ تو منقول نہیں پھر عھد صحابہ وتابعین میں بھی یہ دن آیا مگر نوافل منقول نہیں اس دن کی مناسبت سے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

