سوال 7338
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا ایک مرتبہ کسی عورت کا دودھ پینے سے رضاعت ہو جائیگی۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کم از کم پانچ مرتبہ ضروری ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک مرتبہ سے نہیں پانچ مرتبہ (دو سال کے عمر کے دوران)
دودھ پلا دیا ہو تو رضاعت ثابت ہوجائے گی۔
[مسلم : 3597]
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس مقرر شدہ گھونٹ تھے جو حرام کردیتے تھے پھر ان کو پانچ مقرر گھونٹوں سے منسوخ کردیا گیا.
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا
شیخ محترم مطلب ایک مرتبہ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو اس بچے یا بچی کا نکاح ہو سکتا ہے جو حرمت کی وجہ سے حرام ہوجاتا ہے؟
جواب: ایک مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت ہی ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا اس سے رشتوں کی حرمت کے احکامات بھی لاگو نہیں ہوتے۔ اگر کوئی اور محرم رشتہ نہیں بنتا تو بالکل نکاح ہوسکتا ہے۔ ایک دو مرتبہ دودھ پلانا احکام کے اعتبار سے اسی طرح ہے جیسے دودھ پلایا ہی نا ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ



