سوال 7309

ایک بات پوچھنی تھی کہ ابھی حال ہی میں گفتگو کے دوران میں نے کسی سے کہا کہ ’اپنا خیال رکھنا‘، تو انہوں نے مجھے میسج کر کے کہا کہ ایسا کہنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ ان کی اس بات سے میں تھوڑی الجھن میں پڑ گئی ہوں کہ کیا واقعی ہمیں ایسا نہیں کہنا چاہیے؟
براہِ کرم اس بارے میں میری تھوڑی رہنمائی فرما دیں کہ کیا یہ کہنا غلط ہے یا نہیں؟ تاکہ میری بھی اصلاح ہو جائے اور میں آگے بھی دوسروں کو صحیح بات بتا سکوں۔ جزاک اللہ خیر۔

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ساتھ دعا بھی دینی چاہیے کہ اللہ تعالٰی آپ کی حفاظت فرمائے یا استودع اللہ دینکم امانتکم خواتیم اعمالکم یا جو اس طرح کی الوداعی دعائیں ہوتی ہیں وہ بھی ساتھ دینی چاہیے اور ساتھ محتاط انداز میں یعنی محتاط رکھنے کے لیے اس طرح کی انفارمیشن دی جا سکتی ہے جیسے باپ اپنے بیٹے کو کہتا ہے بیٹا خیال رکھنا اپنا اپنی صحت کا خیال رکھنا یا اسی طرح حالات اس قسم کے ہیں تو اپنی حفاظت کرنا یا اسی طرح اپنی خوراک کا خیال رکھنا تو اس طرح کی چیزیں کہی جا سکتی ہیں کوئی اس میں کوئی امانت والی بات تو نہیں ہے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ بیٹا اپنا خیال کرنا اور اللہ کی تقدیر سے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ یہ یہ ہے کہ میرے دل میں یہ ہے کہ آپ اکٹھے جاؤ گے تو ارض مصر میں کہیں نظر نہ لگ جائے تو آپ ذرا خیال کرنا اکٹھے نہ ایک دروازے سے جانا الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تو اس طرح باپ اپنی اولاد کے لیے یا جو ہے نا اپنے شاگردوں کے لیے یہ کہہ سکتا ہے حالات کے پیش نظر یہ حالات جو ہیں وہ خطرناک ہیں تو شاگرد استادوں سے کہتا ہے کہ بیٹا محتاط رہنا اور کوئی بات کسی سے الجھنا نہیں ہے یا یہ ہے کہ اپنا خیال رکھو اپنی صحت کا خیال رکھو اپنی حفاظت کرو تو اس طرح کی باتیں کہنے میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے بارک اللہ فیکم

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ