سوال 7591

مجھے ایک شرعی مسئلے کے بارے میں آگاہ فرمائیں کہ کیا عورت شوہر کی اجازت کے بغیر پاکستانی عدالت سے خلع لے سکتی ہے؟

جواب

اگر تو واقعی عدالت سے خلع لیا ہے، یا عدالت نے نکاح فسخ کردیا ہے تو خلع یا تنسیخ نکاح معتبر ہے، اور وہ عورت ایک حیض گزارنے کے بعد آگے نکاح کر سکتی ہے، نیز اس صورت میں عورت کو حق مہر بھی واپس کرنا ہوگا۔

فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ،وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا

کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
(صحیح البخاری حدیث نمبر : 5276)
نیز خلع کی عدت ایک حیض ہے
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ (حدیث) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں (یعنی طہر سے فراغت کے بعد) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا
(سنن نسائي حدیث نمبر : 3528)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ