سوال 7411

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اسٹاک مارکیٹ میں کسی حلال کمپنی کے شیئرز خرید کر ٹریڈنگ کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس میں چارٹس کی مدد لی جاتی ہے اور نفع و نقصان فکس ہونے کے بجائے کمپنی کی کارکردگی (سیلز) اور مارکیٹ کی صورتحال پر منحصر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اور ڈاکٹر ذاکر نائیک اسے جائز قرار دیتے ہیں، اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں درست۔
اگرچہ کسی کمپنی کے شیئرز خریدنا ،اس کا شراکت دار بننا ہی ہوتا ہے لیکن چونکہ
ساری کمپنیاں بنکوں کے سودی معاملات،سودی معاہدوں سے منسلک ہیں۔لہذا اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا بنیادی طور پر اسلام نے چونکہ تجارت کو جائز قرار دیا ہے لیکن یہ شرط لگا دی کہ اس میں سود نہ ہو، دھوکا، جوا، ظلم اور حرام معاملات نہ ہوں۔ اس بنیاد پر جب ہم شیئر کو دیکھتے ہیں۔ تو کسی بھی کمپنی کا شیئر خریدا جائے تو حقیقت میں خریدار اس کمپنی کے اثاثوں اور کاروبار کا ایک حصہ خریدتا ہے۔ یعنی وہ اس کمپنی کا جزوی طور پر مالک بن جاتا ہے۔ اس لیے اگر کمپنی کو نفع ہوگا۔ تو اسے نفع ملے گا۔ اگر نقصان ہوگا تو وہ بھی نقصان برداشت کرے گا۔ یہ صورت فقہی اعتبار سے پارٹنر شپ کی ایک جدید شکل ہے۔ اس میں تو بظاہر کوئی ایشو محسوس نہیں ہو رہا۔ لیکن جہاں تک بات ہے نفع اور نقصان میں شراکت کے حوالے سے تو اس میں شریعت نے ایک بنیادی طور پر ہمیں ایک اصول دیا ہے کہ الخراج بالضمان۔ کہ منافع اسی کا حق ہے جو نقصان کی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔ تو یہ فقہی اصول جو ہے اس پر ہم کہتے ہیں کہ جو شخص سرمایہ لگاتا ہے وہ نفع بھی لے سکتا ہے لیکن نقصان کا احتمال بھی برداشت کرے گا۔ اگر سرمایہ محفوظ ہو اور نفع بھی یقینی ہو تو یہ ممکنہ طور پر سود کی شکل بن سکتی ہے۔
یہ چند بنیادی باتیں اگر سمجھ لی ہیں۔ تو اب میں آپ کو بتاؤں کہ کن شرائط کے تحت شیئرز جائز ہیں۔ چونکہ شیئرز کا کاروبار ایک عصری ایجاد ہے۔ اس سے پہلے یہ چیزیں اس انداز میں موجود نہیں تھیں۔ لہذا اس میں اجتہاد کے معاملات زیادہ ہوں گے لیکن خرید و فروخت کی جو بنیادی کیفیات شریعت نے کتاب و سنت میں بتائی ہیں وہی تمام کیفیات یہاں بھی اپلائی ہوں گی۔
1۔ نمبر ایک کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ٹیکسٹائل ہے، ادویات، زراعت یا صنعت۔
2۔ کمپنی کسی سودی بینک کے ساتھ شراب، جوا، انشورنس، خنزیر یا دیگر حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو۔
3۔ نمبر تین شیئر کی حقیقی ملکیت حاصل ہونی چاہیے۔
4۔ نمبر چار صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ پر کیا کہتے ہیں اسے سٹے بازی جو کی جاتی ہے ٹھیک ہے۔ وہ کام نہ ہو۔
5۔ نمبر پانچ یہ لیوریج مارجن ٹریڈنگ یا سودی قرض کے ذریعے سرمایہ کاری نہ کی جائے۔
یہ جو پانچویں بات میں نے بتائی ہے اس کو میں مزید واضح کرنا چاہوں تو یوں کہہ سکتا ہوں کہ کن صورتوں میں یہ شیئرز خریدنا بیچنا ناجائز ہوں گے۔ سودی قرض لے کر شیئر خریدنا بیچنا حرام ہے۔ مارجن ٹریڈنگ جس میں سود شامل ہوں۔ ایسے معاہدات جس میں فیوچر آپشنز ہوں اور حقیقی اونر شپ نہ ہو۔ ٹھیک ہے۔ صرف جوئے کی نیت سے بار بار خرید و فروخت کرنا اور ایسے شیئرز خریدنا جن کا عملی طور پر کوئی وجود نہ ہو۔ اچھا ایسی کمپنیز کے شیئر خریدنا جن کا بنیادی کاروبار ہی حرام ہو۔ تو یہ ایسی کمپنیز کے ایسے شیئرز کو خریدنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی کمپنی میں کچھ معاملات سودی بھی ہوں۔ تو بہت ساری بڑی کمپنیاں ہیں جن کے بعض سودی بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں یا محدود سودی معاملات ہوتے ہیں۔ تو اس میں احتیاط کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسی کمپنیز کے شیئرز لینا جائز نہیں۔ جب کہ بہت سارے اس میں بعض علماء نے اور جو فقہی اکیڈمیز ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو، سودی معاملات غالب نہ ہوں تو اس کے شیئرز لیے جا سکتے ہیں البتہ سود سے حاصل ہونے والے حصے کو صدقہ کر دیا جائے۔ یہ رائے ہمارے پاس کچھ فقہاء کی آتی ہے۔ جہاں تک بات ہے ڈاکٹر اسرار صاحب اور ڈاکٹر ذاکر نائک کی تو بات یہ ہے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور ڈاکٹر ذاکر نائک یہ دونوں کی فیلڈ نہیں ہے۔ یعنی کسی چیز حلال اور حرام فقہی معاملات پر رائے دینا یا فتوی دینا یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر اسرار احمد کی فیلڈ نہیں ہے۔ اس لیے ان کی رائے کو تو ہم یہاں پر نہ بطور دلیل، نہ بطور حجت، نہ بطور فتوی اس کو نقل کر سکتے ہیں۔
جزاک اللہ خیرا۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ