سوال 7457

کیا حدود کا نفاذ حکمران کا کام ہے؟ دلیل سے رہنمائی کریں
اگر خود کوئی شخص حدود قائم کرے اسکے لیے کیا وعید ہے دلیل سے رہنمائی کریں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾

اور اسی طرح بعض مقامات پر ظالمون اور فاسقون بھی فرمایا گیا ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن نے «مَنْ لَمْ يَعْمَلْ» نہیں فرمایا بلکہ «مَنْ لَمْ يَحْكُمْ» فرمایا ہے۔
حکم کا تعلق بنیادی طور پر سلطنت، اقتدار اور حکمرانی کے ساتھ ہے؛ یعنی بادشاہ، امیر اور حکمران کے ساتھ۔ دلائل بھی اسی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور ہر دور میں یہی طریقہ رہا ہے۔
اگرچہ بعض جزوی واقعات میں لوگ خود بھی فیصلے کرتے رہے ہیں، لیکن عمومی اور شرعی اصول یہ ہے کہ قانون ہاتھ میں نہیں لیا جاتا، بلکہ جو بھی نظامِ حکومت موجود ہو، اسی کے ذریعے اپنے جائز حق کے حصول یا حدود و سزاؤں کے نفاذ کے لیے رجوع کیا جاتا ہے۔
نبی علیہ السلام کے دور میں بھی معاملات عدالت اور حاکم کے سامنے پیش کیے جاتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بعد جو امراء اور خلفاء گزرے، ان کے ادوار میں بھی قضایا ان کے سامنے لائے جاتے تھے کہ یہ معاملہ پیش آیا ہے اور اس کا فیصلہ کیا جائے۔
لہٰذا کسی فرد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود حدود نافذ کرتا پھرے، سزائیں دینا شروع کر دے یا قانون اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اس سے معاشرے میں انارکی اور فساد پیدا ہوگا، جبکہ شریعت کا منشاء نظم، عدل اور باقاعدہ نظامِ قضاء کے ذریعے معاملات کو حل کرنا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ