سوال 7534
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال ہے کہ عورت کا کام صرف گھر سنبھالنا ہے اور بچوں کی پرورش، شوہر کی خدمت وغیرہ تو شیوخ محترم کیا یہ سب علم کے بغیر بھی احسن طریقے سے سر انجام دیا جا سکتا ہے کیا؟
خصوصا آج فتنوں کے دور میں خواتین کی اکثریت جس قدر دین سے اور علم سے دور ہے اُنکو قرآن سے جوڑنا اور دین کا صحیح فہم دینا ضروری نہیں؟ اور بلاشبہ یہ سب حدود میں رہ کر ہو رہا ہے۔ میں خود ایک ایسے کتنے ہی گھروں سے واقف ہوں جہاں مرد جمعہ تک پڑھنے نہیں جاتے انہوں نے اپنی عورتوں کو کیا ہی سیکھانا ۔۔۔ اور اکثر ایسے گھروں کی عورتیں قرآن پڑھ جاتی ہیں تو اپنے بچوں کی تربیت صحیح سمت میں کرتی ہیں۔
اور ہر ادارے میں اچھے برے لوگ اور مسائل موجود ہوتے ہیں چاہے وہ صحیح منہج کے مدارس ہوں یا خواتین کے بنائے ادارے جنکو اکثر ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں اور بھی کافی کچھ بتایا جا سکتا جس سے شاید اکثر واقف نہیں لیکن بات کو مختصر کرنا چاہوں گی تاکہ پڑھنا آسان رہے۔
جزاکم اللّٰہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
خواتین کے حصول علم کا انکار کوئی نہیں کرتا نا ہی اس کی اہمیت کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ خواتین علم حاصل کریں لیکن حدود میں رہ کر۔ خواتین جو صاحب علم ہوں وہ اپنے گھر میں یا اپنے علاقہ میں کسی جگہ خواتین کی کلاس پڑھائیں، ان کو دین سکھائیں۔ بہترین عمل ہے۔
اصل نقد اس سوچ پر ہے کہ جو خواتین مردوں کی طرح دور دراز کی علاقوں میں خواتین کے اجتماعات سے خطاب کرنے کو معمول بنا لیتی ہیں۔ اس طرح کانفرنسیں و ملکی سطح پر مختلف شہروں میں سفر کرکے دین کا کام مرد علماء خطباء کے ذمہ ہے اور تقریبا ہر مردوں کے دروس و پروگرامز میں خواتین کے لیے پردہ کا بھی الگ انتظام ہوتا ہے۔ اسی پر کفایت کرنا چاہیے اور خواتین کو خود اہل خانہ، رشتہ داروں اور علاقہ میں ہی دین کا کام کرنا چاہیے بس۔
مختلف رنگوں کے گاون سکارف پہن کر ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر نوجوان بچیوں، خواتین کا پروگرامز کرنا یہ عجیب کھلواڑ ہے۔ کسی جگہ نہیں آیا کہ عورت نے چہرہ ڈھانپ لیا ہو تو ارادتا مردوں کے سامنے آتی رہے۔ اصلا تو مجبوری کے تحت گھر سے پردہ کرکے نکلنے کی رخصت تھی۔ آج کل کی عورتوں نے دعوت و تبلیغ کے نام پر سوشل میڈیا پر جو سلسلہ جات شروع کیا ہوئے ہیں ان سے بہتر تھا کہ ان پڑھ رہ جاتیں۔
مدارس کو کوئی ٹارگٹ نہیں کرتا یہ ہمارا سرمایہ ہیں۔ لیکن دینی تعلیم کے نام پر خواتین کے بعض مدارس چلانے والے جس روش پر چل نکلے ہیں ان کو شعور دلوایا جاتا ہے کہ دین کو دین رہنے دیں۔ اپنی مرضی کی رخصتیں نکلوا کر رسوا نہ ہوں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




