سوال 7541
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
میرا ایک سوال ہے کیا منگنی پر منگنی کرنا جائز ہے یا آپ یوں سمجھیے کہ ایک بچے کی منگنی ہو جاتی ہے پھر کوئی اس بچے کا عزیز اٹھتا ہے اور اسے سبز باغ دکھا کے اس کی وہ منگنی توڑنے میں مکمل اعانت کرتا ہے اور اس بچے کا ذہنی رجحان کسی اور طرف پھیر دیتا ہے اس کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح دینے سے منع فرمایا ہے، جس کو ہمارے ہاں منگنی اور خطبہ کہا جاتا ہے۔
نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نافرمانی جو ہے، یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ وَغَوَىٰ﴾
اور فرمایا:
﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ﴾
اور فرمایا:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
تو وہ سب وعیدیں ہیں۔ اللہ کے عذابوں سے ڈرنا چاہیے۔
یہ ظلم و زیادتی ہے۔ اس میں صراحتاً نبی علیہ السلام اور قرآن و سنت کی نافرمانی ہے، اور کیا ہے؟
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




