سوال 7424
السلام علیکم و رحمۃ و رحمۃ
اگر مسجد کی تعمیر کے کام میں یا رنگ و روغن کے کام میں کوئی عیسائی شخص کام کر رہا ہو تو کیا اس میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر یا رنگ و روغن کا ٹھیکہ کسی عیسائی کو نہیں دیا جا سکتا ہے؟ ذرا قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ضرورت کے تحت کسی غیر مسلم کے ہاں نوکری کرنا یا اس کو اپنے پاس ملازم رکھنا یا مساجد وغیرہ یا اس طرح کے جو مقدس سلسلے ہیں ہمارے اس کو تعمیر کرنا وہ جائز ہے ضرورت کے تحت۔ کوئی سختی نہیں ہے اس میں۔ جیسے ان کے ہاں کام کیا جا سکتا ہے ان سے بھی کام کروایا جا سکتا ہے۔ ہماری چیزیں تو الحمدللہ برحق ہے، مسجد کی تعمیر ہے و مدرسے کی تعمیر ہے یا عید الفطر عید الاضحی کے تہوار ہیں تو ان کے جو تہوار ہیں یا ان کے جو مقدسات انہوں نے جو بنا رکھے ہیں اسلام کے آنے کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ تو مسلمان معمار گرجا بھی تعمیر کر نہیں سکتا ہے۔ کلیسا نہیں تعمیر کر سکتا ہے، ان کا معبد خانہ نہیں تعمیر کر سکتا ہے، نہ کرنا چاہیے۔ البتہ ان سے کوئی کام لیا جا سکتا ہے تو لے سکتے ہیں۔ لیکن ترجیح مسلمان کو ہی دینی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

