سوال 7220

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ اگر کسی آدمی کی فرض نماز رہ جاتی ہے تو وہ ساری زندگی اس کا ثواب نہیں پا سکتا اور پھر کل قیامت کے دن اگر فرض میں کمی رہ گئی تو نوافل کے ساتھ اس کی کمی پوری کی جاۓ گی تو کیا وہ سنتیں فرض کے ثواب کو پورا کر دیں گی؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
فرض عبادات میں اگر کمی رہ جائے تو قیامت کے دن نوافل کے ذریعے اس کی تلافی کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں مضمون ملتا ہے کہ نوافل کو فرائض کی کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اسی طرح اگر فرض روزوں میں کمی ہو تو نفلی روزے ان کی تلافی میں مددگار ہوں گے، اور اگر فرض زکوٰۃ میں کوتاہی ہو تو نفلی صدقات اس کمی کو پورا کرنے کے کام آئیں گے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس پر ایمان رکھا جائے اور اپنی طرف سے جو بھی کمی کوتاہی ہو اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت کی دعا کی جائے:

“رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ” “رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ” “رَبِّ اغْفِرْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ”

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ