سوال 7328
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ساڑی کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ کیا پہننا جائز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ، والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔
سوال ہے کہ خواتین کے ساڑی پہننے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
اس حوالے سے دو تین باتیں ذہن میں رکھیں۔
پہلی بات یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«من تشبه بقوم فهو منهم»
“جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔”
ساڑی ہندو خواتین کا لباس اور ان کے کلچر کا حصہ شمار کی جاتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ لباس کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ ساتر اور باپردہ ہو۔ ساڑی عمومی طور پر ایسا لباس نہیں جس سے مکمل ستر پوشی ہو، لہٰذا اس اعتبار سے بھی اس پر اشکال ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کی موجودگی کے بغیر، گھر کے اندر ساڑی پہن سکتی ہے؟ تو بظاہر اس کی بھی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ غیر مسلموں کے لباس میں شمار ہوتی ہے۔
البتہ بعض اہلِ علم گھر کی چار دیواری کے اندر، جہاں کوئی غیر محرم نہ ہو، اس قسم کے لباس کی اجازت دیتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ



