سوال 7312

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم سوال یہ ہے کہ کیا عورت شرعی حدود میں رہتے ہوئے جم میں جاسکتی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جس طرح ٹخنے ننگے کرنا بذات خود تکبر کی علامت ہے خواہ نیت تکبر کی ہو یا نا ہو۔
اسی طرح سے عورتوں کا جم جانا بذات خود شرعی حدود سے تجاوز ہے۔ تو جو چیز بذات خود شرعی حدود سے تجاوز ہو اس چیز کے شرعی حدود میں رہ کر کرنے کا دعویٰ ہی غلط ہے۔

وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ

[الاحزاب : 33]
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ورزش بعض اوقات مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے ضروری ہوتی ہے، بلکہ ڈاکٹر بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ تاہم عورت کے لیے سب سے بہترین جگہ اس کا گھر ہے۔ اسے باہر جا کر اپنی طاقت یا جسمانی بناوٹ کا اظہار نہیں کرنا، نہ ہی کوئی ایسے کام درپیش ہوتے ہیں جن کے لیے گھر سے باہر ورزش کرنا ضروری ہو۔
آج کل گھر میں ہلکی پھلکی ورزش کے بے شمار طریقے دستیاب ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے آسانی سے ایسی ورزشیں سیکھی جا سکتی ہیں جو گھر کے ماحول میں کی جا سکتی ہیں۔ یہ صورت سب سے بہتر ہے، کیونکہ اس میں پردہ بھی محفوظ رہتا ہے، حیا بھی برقرار رہتی ہے اور فتنے کا بھی کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
اگر کسی وجہ سے گھر میں ورزش ممکن نہ ہو، اور ڈاکٹر نے صحت، وزن کم کرنے یا کسی بیماری کے علاج کے لیے ورزش کو ضروری قرار دیا ہو، تو پھر ایسی جگہ جانا جائز ہو سکتا ہے جو گھر کے قریب بھی ہو، جہاں صرف خواتین کے لیے علیحدہ جم یا ورزش کا انتظام ہو، مرد و زن کا اختلاط نہ ہو، خواتین ہی تربیت دینے والی ہوں، بے پردگی نہ ہو اور فتنے کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔
اس کے باوجود ہماری یہی رائے ہے کہ عورت کے لیے گھر میں رہ کر مناسب ورزش کرنا ہی سب سے بہتر، محفوظ اور زیادہ موافقِ شریعت طریقہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ممکن ہے میرے اس جواب پر بعض مشائخ کو اعتراض یا تحفظات ہوں، لیکن ذاتی طور پر میری رائے یہ ہے کہ اگر ایک خاتون شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے، مکمل حجاب کے ساتھ جم میں جا کر ورزش کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ بات ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾ کی مخالفت بھی نہیں ہے، کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو ہمیشہ کے لیے گھر میں قید کر دیا جائے۔ جب عورت ضرورت کے تحت اپنے والدین سے ملاقات، صلہ رحمی کے لیے بہن بھائیوں کے پاس، خریداری کے لیے بازار، شوہر کے ساتھ باہر کھانا کھانے، بچوں کو اسکول چھوڑنے یا اپنی فیملی کے ساتھ پکنک پر جا سکتی ہے، تو پھر ورزش کی غرض سے جم جانے میں کیا ممانعت ہے؟
البتہ اگر وہاں شرعی حدود، حجاب یا عفت و حیا کی ایک فیصد بھی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو تو پھر وہاں نہیں جانا چاہیے۔ یہ اصول صرف جم کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر اس جگہ پر لاگو ہوتا ہے جہاں شریعت کی مخالفت پائی جائے۔
جم میں جانے کا مقصد جسمانی ورزش کرنا اور صحت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ شرعاً اس میں کیا ممانعت ہے؟ کیا جسمانی طور پر فٹ رہنا صرف مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کے لیے ممنوع ہے؟
اگر اس بات کو مزید آگے بڑھایا جائے تو ہمارے فزیوتھراپی کلینکس اور ہسپتالوں میں ہونے والے فزیو سیشنز بھی اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اگر اصول یہی ہو کہ عورت کسی صورت ایسی جگہ نہ جائے تو پھر ان معاملات پر بھی اشکال پیدا ہوگا۔
لہٰذا، اگر جم میں شرعی حدود کی مکمل پابندی ہو، خاتون حجاب کے ساتھ جائے، ٹرینر یا ڈاکٹر بھی خاتون ہو، اور وہاں عورتوں کے باہمی پردے اور دیگر شرعی آداب کا بھی مکمل خیال رکھا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں جم میں جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ