سوال 7431
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا تہجد کی اذان دور نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
فجر کے وقت سے پہلے ایک اذان ہوتی تھی حدیث میں یہ ذکر ہے۔ اور اس اذان کا مقصد یہ بتایا گیا ہے جو پہلے سے قیام کر رہا ہے تہجد پڑھ رہا ہے وہ کچھ آرام کر لے۔ کہ اب فجر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اور جو سو رہا ہے وہ اٹھ جائے تیاری پکڑے کہ فجر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ایک اذان بہرحال ہوتی تھی اسی کو بعض لوگوں نے تہجد کی اذان کہہ دیا۔ بعض نے سحری کی کہہ دیا۔ یہ نام حدیث میں اس کو نہیں دیا گیا۔ اذان بہرحال موجود ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: استاذ محترم پابندی کے ساتھ روزانہ تہجد کی اذان ہوتی ہے کیا یہ عمل درست ہے ؟
جواب: السلام علیکم
دیکھیں یہ وہی اذان ہے اس کو اب نام لوگوں نے دے دیے تہجد اور سحری پہچان کے لیے لیکن اذان بہرحال فجر کی اذان سے پہلے ایک اذان ثابت ہے اگر کہیں ہوتی ہے تو یہ جائز ہے سنت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

