سوال 7474
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الشَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ شَفَعَ لِأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا ، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا : جس نے اپنے کسی بھائی کی سفارش کی اور پھر اسے اس پر کوئی ہدیہ دیا ، تو اگر اس نے اسے قبول کر لیا تو ، وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس حدیث میں ہے کہ جو کسی بھائی کی شفاعت کرتا ہے، اگر اس کو کوئی تحفہ دیتا ہے تو وہ اسے وصول کرتا ہے تو وہ سود ہے۔ تو اگر کوئی بندہ کسی کا کوئی کام کرے تو وہ اس پر پیسے لے تو کیا وہ بھی اس زمرے میں آتا ہے؟ آگے وہ پیسے دے یا نہ دے۔ یعنی کہ آگے کسی سے لے لے اور پھر آگے دے یا نہ دے۔ کیا وہ بھی اس زمرے میں آئے گا یا کہ وہ نہیں آئے گا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اپنے بھائیوں کی خدمت اور ان کے ساتھ تعاون کا بہت بڑا اجر ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
﴿لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾
یعنی ہمیں تم سے نہ بدلہ چاہیے اور نہ شکریہ۔ اس لیے کسی کے کام صرف اس نیت سے نہیں آنا چاہیے کہ وہ ہمیں سلوٹ کرے، تحفہ دے یا ہدیہ پیش کرے۔
ہمارے ہاں لوگ بے خیالی میں کہہ جاتے ہیں: “ہاں جی، بس دعا کیجیے گا”، یہ بھی درست رویہ نہیں ہے۔ اس مسئلے کی تفصیلی بحث علماء نے کی ہے، خصوصاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس پر گفتگو کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دل میں بھی ایسی کوئی چاہت نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کسی کے کام آئیں تو وہ ہمیں پیسے، تحفے یا ہدیے دے۔
البتہ جو لوگ کمیشن پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے باقاعدہ اپنے آپ کو اس کام کے لیے پیش کیا ہوا ہے کہ ہم آپ کو مکان ڈھونڈ کر دیں گے، گاڑی دلوائیں گے، سودا کروائیں گے، تو یہ الگ معاملہ ہے۔ یہ سمسار یا کمیشن ایجنٹ کا کام ہے اور تجارت کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اس کا کمیشن لینا جائز ہے۔
لیکن یہ صورت کہ انسان ہر کام کے اندر لالچ رکھے کہ مجھے اس کے بدلے پیسہ ملے، دعا ملے یا ہدیہ ملے، یہ درست نہیں۔ حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اپنے بھائی کے ساتھ احسان اور تعاون کا معاملہ کرتے ہوئے بے لوث ہو کر اس کے کام آنا چاہیے۔
البتہ اگر آپ کسی کے لیے ایسا کام کرتے ہیں جس میں آپ کا خرچہ، بھاگ دوڑ، پٹرول، وقت یا دیگر اخراجات ہوئے ہیں تو اس کے عوض کچھ لینا جائز ہے، کیونکہ پھر یہ کمیشن یا اجرت کے دائرے میں آ جائے گا۔
لیکن ہر چھوٹے موٹے کام پر، جس میں آپ کا کچھ خرچ بھی نہیں ہوا، صرف یہ کہ آپ نے سفارش کر دی یا اپنی پہچان سے کسی کا کام کرا دیا، اس پر کچھ لینا مناسب نہیں۔ مثلاً آپ نے کہا: “میری چٹھی لے جاؤ، کام ہو جائے گا”، تو بھائی اس پر آپ کیا لینا چاہتے ہیں؟
ایسی صورتوں میں بہتر یہی ہے کہ انسان صاف کہہ دے:
“بھائی! میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ آپ مجھے کوئی تحفہ یا بدلہ دیں؛ یہ تو بھائی ہونے کے ناطے آپ کے کام آیا ہوں۔”
یہی اخلاص ہے اور یہی اس تعلیم کا اصل مقصد ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

