سوال 7469

آدمی فوت ہوگیا ہے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ واقعی وفات پا چکا ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

کسی شخص کی وفات کا یقین واضح علامات اور معتبر گواہی سے کیا جاتا ہے۔ صرف یہ دیکھ کر کہ آدمی بے ہوش ہے، آنکھیں بند ہیں یا حرکت نہیں کر رہا، فوراً اسے فوت شدہ قرار نہیں دینا چاہیے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں
1۔ موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔”
[سورۃ آل عمران: 185]
2۔ موت کے وقت روح قبض کی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا

اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔
[سورۃ الزمر: 42]
3۔ نبی ﷺ نے موت کی ایک نمایاں علامت بیان فرمائی
حضرت اُمّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو سلمہؓ کے پاس تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند فرمائیں اور فرمایا:

إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ

جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نگاہ بھی اس کے پیچھے چلی جاتی ہے۔
[صحیح مسلم: 920]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض ہونے کے بعد آنکھوں کی کیفیت بھی ایک علامت ہو سکتی ہے، لیکن صرف ایک علامت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
اگر کسی شخص کے بارے میں شک ہو کہ وہ فوت ہوا ہے یا بے ہوش ہے؟
سانس اور نبض کی موجودگی چیک کی جائے۔
فوراً ڈاکٹر/طبی ماہر سے تصدیق کروائی جائے۔
اگر سانس یا دل کی دھڑکن کے بارے میں یقین نہ ہو تو اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ نہ دیں؛ فوری طبی امداد حاصل کریں۔
معتبر ڈاکٹر کی طرف سے موت کی تصدیق ہو جائے تو پھر غسل، کفن اور جنازے کے شرعی مراحل کیے جائیں۔

فضیلۃ العالم ام طاہرہ حفظہ اللہ

ایک تو اس وقت جان گلے تک آ جاتی ہے اور سانس اکھڑنے لگتا ہے، قرآن مجید میں ہے:

“فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ۔

پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے،اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو تے ہو ۔(الواقعہ)

«إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ». (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه)

’’جب تک بندے کی روح حلقوم تک نہ پہنچے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘
[رواہ الترمذی: ۳۵۳۷ و ابن ماجہ : ۴۲۵۳]

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: «أَجود وأجود» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے قریب المرگ افراد کو ان کلمات کی تلقین کرو : اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ عرش عظیم کا رب پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! (یہ کلمات) زندوں کے متعلق کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بہت خوب ! بہت خوب ۔‘‘
مذکوره قرآن و احادیث سے ثابت ہوتا ہے كہ جب بندہ کا آخری وقت آ جائے تو دیکھنے والوں کو پتہ چل جاتا ہے۔

فضیلۃ العالم احسان الحق حفظہ اللہ