سوال 7218

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے حوالے سے کیا حکم ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس مسئلے پر ہمارے بعض مشائخ نے تحریری طور پر انکار بھی کیا ہے، جسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم بصد احترام یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ مجبوری کے احکام الگ ہوتے ہیں۔
اگر کوئی شخص واقعی زمین پر بیٹھ نہیں سکتا، اور یہ بات ثابت ہے کہ وہ گھر، مسجد، مدرسہ، ہسپتال، ہر جگہ زمین پر بیٹھنے سے عاجز ہے، تو پھر اس کے لیے بیڈ پر یا کرسی پر نماز ادا کرنا درست ہے۔
البتہ ہمارے ہاں جو ایک فیشن بنتا جا رہا ہے کہ آدمی چھ گھنٹے کھڑا رہ سکتا ہے، لمبی واک کر سکتا ہے، روزمرہ کے کام باآسانی انجام دیتا ہے، لیکن جب مسجد میں آتا ہے تو اسے فوراً کرسی درکار ہوتی ہے، تو اس طرزِ عمل سے اجتناب ہونا چاہیے۔
لہٰذا حقیقی عذر اور مجبوری ہو تو کرسی یا بیڈ کی گنجائش موجود ہے، لیکن بلا ضرورت اسے معمول بنانا درست نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم جو شخص بغیر عذر کے کرسی پر بیٹھتا ہے، وہ نیچے بیٹھ سکتا ہے اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ہماری معلومات کے مطابق جو شخص بغیر عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اب وہ کرسی ہو یا زمین ہو۔ تو جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے بغیر عذر کے اس کی نماز کا ثواب آدھا کر دیا جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ شیخ محترم اگر بندہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے گا تو سجدے کی حالت میں ہاتھ کہاں رکھے گا؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بیٹھ کر نماز پڑھنے کے حوالے سے حدیث میں آتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: رکوع میں کم جھکو اور سجدے میں اس سے زیادہ جھکو۔
لہٰذا جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، وہ رکوع اور سجدے دونوں حالتوں میں اپنے ہاتھ گھٹنوں یا رانوں پر رکھے۔ ہاتھوں کو آگے لٹکانا درست نہیں، جیسا کہ بعض لوگ کر لیتے ہیں۔
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا بہتر ہے، جبکہ سجدے کی حالت میں رانوں پر ہاتھ رکھ لے تو بھی درست ہے۔ البتہ ہاتھوں کو آگے کی طرف لٹکانا مناسب نہیں۔
اسی طرح جو سر ٹیکنے والی کرسی یا سامنے میز نما سہارا بنایا جاتا ہے، وہ بھی درست نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سجدے کے لیے تکیہ رکھا تو نبی علیہ السلام نے اسے ہٹا دیا۔ پھر انہوں نے ایک لکڑی کا سہارا بنایا تو اسے بھی ہٹا دیا گیا۔
لہٰذا اصل طریقہ یہی ہے کہ رکوع میں نسبتاً کم جھکا جائے اور سجدے میں اس سے زیادہ جھکا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو نماز درست ہے، ان شاء اللہ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ