سوال

ایک خاتون جو اپنی بیٹی کا خاوند (داماد) فوت ہونے کے بعد اس کے پاس رہ رہی تھی، لیکن اپنے خاوند کی بیماری میں شدت کی وجہ سے اپنے گھر آگئی اور اگلے روز ہی اس کے خاوند کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کی عدت ابھی ہفتہ قبل شروع ہو ئی ہے۔ اب بیٹی کو بھی ماں کی ضرورت ہے، کہ اس کے پاس رہنے کے لیے کوئی اور فرد میسر نہیں ہے۔ اور اس بیٹی کی عدت میں ایک ماہ باقی ہے۔اس صورت حال میں کیا تدبیر ہو سکتی ہے ؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

عورت کے لیے خاوند کے گھر میں ہی عدت مکمل کرنا ضروری ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیہ کو فرمایا تھا:

“امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ”. [سنن ابن ماجه: 2031 ]

’جب تک اللہ کی مقرر کردہ عدت(وفات)پوری نہیں ہو جاتی،اسی گھر میں رہائش رکھو،جہاں تمہیں اپنے خاوند کی وفات کی خبر پہنچی‘۔
ہاں اگر کوئی انتہائی مجبوری ہو، تو پھر وہ عدت کہیں اور بھی گزار سکتی ہے، اور گھر کی ضروریات کے لیے باہر بھی جاسکتی ہے۔ دورِ نبوت سے اس کے شواہد ملتے ہیں، جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

“طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا”. [مسلم:1483]

’میری خالہ کو طلاق دے دی گئی تھی، انہوں نے اپنے باغ کی کھجوریں اتارنے کا ارادہ کیا، ليكن انہیں گھر سے باہر نکلنے پر ایک شخص نے ڈانٹا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! تم اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لاؤ، ہوسکتا ہے کہ تم اس میں سے صدقہ دو یا کوئی اور نیکی کرو‘۔
ان دونوں احادیث سے پتہ چلا کہ اصل حکم یہی ہے کہ عدت خاوند کے گھر میں ہی گزاری جائے، لیکن بامر مجبوری کسی اور جگہ عدت گزارنے یا گھر سے باہر نکلنے کی ’رخصت‘ بھی شریعت میں موجود ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں دونوں ماں بیٹی کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اپنے گھر میں ہی عدت مکمل کریں، الا یہ کہ بیٹی کو اگر کوئی مسئلہ ہے کہ وہ خدانخواستہ سسرال میں محفوظ نہیں ہے، یا پھر اسے کوئی مجبوری یا معذوری لاحق ہے کہ اسے اس کی والدہ کی ضرورت ہے، تو پھر وہ اپنی والدہ کے پاس اس کے گھر میں منتقل ہوسکتی ہے۔
بلاشبہ وفات کا صدمہ بہت بڑا ہوتا ہے، لیکن ہمیں چاہیے کہ شرعی احکام پر عمل کریں ،نہ کہ ’رخصتوں‘ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔بیٹی کو چاہیے کہ وہ صبر اور حوصلے سے بقیہ ایک ماہ اپنی عدت گزار کر ماں کے پاس آجائے، تاکہ ماں اور بیٹی ایک جگہ پر رہیں اور ايك دوسرے کے لیے تسلی اور حوصلے کا ذریعہ بنیں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ