سوال 7332
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ راہنمائی درکار ہے۔ ایک شخص کی منگنی ہوئی تھی اس دوران انہوں نے ہمبستری کر لی اب حمل ہو گیا ہے۔ تفصیلی راہنمائی درکار ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب اس نوعیت کے حادثاتی مواقع سامنے آتے ہیں تو اہلِ علم، چونکہ جانتے ہیں کہ اس وقت کوئی بھی سزا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے عموماً مسئلے پر پردہ ڈالنے اور ستر پوشی سے کام لینے کی تلقین کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک صورت یہ بیان کی جاتی ہے کہ دونوں کو الگ کر دیا جائے، کیونکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پھر وضعِ حمل تک انہیں الگ رکھا جائے، اور اس کے بعد ان دونوں کا نکاح کر دیا جائے۔
البتہ اگر اس صورت میں معاشرے میں جو کچھ ہوگا، اس کا اندازہ ہو بڑے، چھوٹے، شادی شدہ، غیر شادی شدہ، پورے خاندان کو بچوں کے اس غلط عمل کی وجہ سے شدید بدنامی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے—تو بعض اہلِ علم دوسری صورت بھی بیان کرتے ہیں۔
وہ یہ کہ چونکہ حمل اسی شخص سے ہے، اگرچہ ناجائز تعلق کا نتیجہ ہے، تو ان دونوں کا نکاح کر دیا جائے اور سزا کے طور پر انہیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔
بہرحال یہ ایک غلط عمل ہے، اور اس کی سزا بھی ملے گی۔ اس لیے دونوں کو سچی توبہ کی تلقین کی جائے۔
وہ جانیں اور ان کا رب جانے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخِ محترم نے اس مسئلے کو بڑے متوازن، مناسب اور عصرِ حاضر کے حالات کے مطابق بیان فرمایا ہے۔ بظاہر اس کے علاوہ کوئی بہتر حل نظر نہیں آتا۔
البتہ اس موقع پر ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے، اور وہ ہمارے معاشرے میں منگنی کے غلط تصور کی ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں منگنی کو باقاعدہ ایک تقریب اور مستقل رشتہ سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ منگنی نکاح نہیں، بلکہ نکاح کا ایک وعدہ ہے؛ یعنی دونوں خاندان اس رشتے پر رضامند ہو گئے ہیں اور مناسب وقت پر نکاح کر دیا جائے گا۔
لیکن ہمارے معاشرے میں منگنی کو گویا نکاح کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے فحاشی، عریانی اور بے حیائی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے اس معاملے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نکاح اور منگنی دونوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ، دوستیاں، یاریاں اور کھلے تعلقات عام ہو چکے ہیں۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں یہ سب کچھ “پرائیویسی”، “آزادی” اور “اعتماد پیدا کرنے” کے نام پر معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بظاہر مشرقی روایات کے پابند نظر آتے ہیں۔ وہ عام حالات میں برائیوں سے بچتے ہیں، لیکن جونہی منگنی ہوتی ہے، یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب تمام پابندیاں ختم ہو گئی ہیں اور لڑکا لڑکی جو چاہیں کر سکتے ہیں۔
اب اگر منگنی کے دوران ہمبستری ہوئی اور حمل ٹھہر گیا تو سوال یہ ہے کہ منگنی کا مطلب آخر کیا تھا؟ دونوں خاندان کہاں تھے؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے بچے کہاں جا رہے ہیں، کس سے مل رہے ہیں اور ان کے آپس کے تعلقات کیا ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ اس میں صرف لڑکا اور لڑکی ہی قصوروار نہیں ہوتے، بلکہ دونوں طرف کے والدین اور خاندان بھی کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ منگنی ہو چکی ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ باتیں کر لیں، فون کر لیں، مل لیں۔ جب آپ نے انہیں ایک طرح کی ڈیجیٹل خلوت فراہم کر دی، تو پھر بعید نہیں کہ وہ عملی خلوت تک بھی پہنچ جائیں، اور پھر ایسے ہی افسوسناک نتائج سامنے آئیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ اصل میں صرف منگنی کا مسئلہ نہیں، بلکہ فحاشی اور عریانی کے پھیلاؤ کا مسئلہ ہے۔ اگر منگنی نہ بھی ہوئی ہو تو بھی آئے دن ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
اس لیے علمائے کرام کو اس مسئلے پر سخت نکیر کرنے اور لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ منگنی کوئی ایسا شرعی، قانونی یا عرفی بندھن نہیں جس سے پردے کے احکام ختم ہو جائیں، خلوت جائز ہو جائے یا لڑکا لڑکی کو آزادانہ تعلقات کی اجازت مل جائے۔ یہ سب شیطان کے دھوکے ہیں۔
پھر کتنی افسوسناک بات ہے کہ منگنی کے بعد معاملات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں، اور بعد میں اسی طرح کے سوالات اہلِ علم کے پاس آتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو نکاح ہو چکا ہوتا ہے، رخصتی نہیں ہوئی ہوتی، اور اسی دوران لڑکا لڑکی کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں کہ رشتہ ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جب نکاح ہو جائے تو بلا وجہ رخصتی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن منگنی کے مرحلے میں تو سرے سے کوئی شرعی تعلق ہی قائم نہیں ہوا ہوتا۔
شرعی اعتبار سے اصل حکم بالکل واضح ہے۔ جب دو افراد زنا کے مرتکب ہوں تو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں الگ کیا جائے، اور اگر اسلامی حکومت ہو تو ان پر شرعی حد نافذ کی جائے۔ اگر حد نافذ کرنے کا اختیار نہ ہو تو کم از کم خاندان کے بڑے انہیں تعزیری سزا دیں، تاکہ لوگوں کے دل میں اس جرم کی قباحت باقی رہے۔
انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ منگنی کے بعد اس طرح کے تعلقات جائز نہیں ہیں۔
اگر حمل ٹھہر جائے تو اسے گرانا جائز نہیں۔ پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس بچے کی پیدائش ہوگی، اور لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ کس پس منظر میں پیدا ہوا۔
اس لیے ایسے مسائل بیان کرتے وقت پہلے شرعی حکم پوری وضاحت اور مضبوطی کے ساتھ بیان کرنا چاہیے، تاکہ لوگوں کو جرم کی سنگینی کا احساس ہو۔
البتہ آخر میں جب معاملہ پیش آ ہی جائے تو پھر اہلِ علم حکمت، ستر پوشی اور معاشرتی مصلحت کو بھی سامنے رکھتے ہیں، اور وہی صورت اختیار کی جاتی ہے جس کا ذکر شیخِ محترم نے کیا۔
میں عموماً ایسے موضوعات پر اظہارِ خیال نہیں کرتا، خصوصاً جب مشائخ اپنی رائے دے چکے ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس مسئلے پر زیادہ اہتمام کے ساتھ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ برائیاں تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اب یہ صرف بے دین طبقے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ بظاہر دین دار، پڑھے لکھے اور مشرقی روایات کے حامل خاندانوں میں بھی یہ فتنے سرایت کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ



