سوال 7357
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
محترم شیخ صاحب میرا سوال یہ ہے کہ وگ لگانا جو وگ لگاتے ہیں جن کے بال نہیں ہوتے تو وہ مصنوعی بالوں کی وگ لگاتے ہیں۔ تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جس بندے کے بیماری کی وجہ سے بال گر گئے ہوں۔ سر گنجا پن آ گیا ہو۔ تو وہ ٹرانسپلانٹ بھی نہیں کروا سکتا وہ بڑا مہنگا ہے۔ تو آیا کہ وہ وگ لگا سکتا ہے جو چپک جاتی ہے بالوں کے ساتھ۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مصنوعی بال، وگ لگانا ہر صورت میں حرام ہے۔ باعث لعنت ہے۔ خواہ عذر ہو یا نا ہو۔
[صحیح بخاری: 5205]
کتاب: نکاح کا بیان
باب: گناہ میں اپنے خاوند کی اطاعت نہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا، فَقَالَ: لَا، إِنَّهُ قَدْلُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
ترجمہ:
قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔
ہیئر ٹرانسپلانٹ طریقہ علاج ہے اس کا تو جواز ہے لیکن وگ، مصنوعی بال لگوانے کا کوئی جواز نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کے سر پہ بالکل بھی بال نہ ہو کسی بھی وجہ سے پیدائشی یا بیماری کی وجہ سے بالکل بھی بال نہ ہوں تو اس کے لیے یا تو ٹرانسپلانٹ کا طریقہ ہے یا پھر وگ استعمال کر سکتا ہے بال سے بال ملانا منع ہے بال ہے ہی نہیں پھر وہ کوئی بھی صورت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ بال زینت ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



