سوال 7708
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال کا جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں
سوزوکی بائیک نقد پانچ لاکھ پچاس ہزار کی مل رہی ہے لیکن اگر قسطوں پہ لیں پھر پروسیسنگ فیس اور رجسٹریشن فیس کے 30 ہزار روپے لیتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ 30 ہزار روپے سود کے زمرے میں تو نہیں آئیں گے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
رجسٹریشن تو لازمی ہے اور اس کی فیس و ٹیکس بھی ہے۔
اس کے علاوہ انشورنش پروسسنگ فیس اور فائل فیس کے نام پر جو کچھ لے رہے ہیں وہ سود کا نام ہی بدل کر فیس رکھا ہوا۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سائل: لا بأس۔
کیونکہ بائیک کمپنی سے خریدی جا رہی ہے ناکہ بنک سے باقی انشورنس تو نہیں ہوتی اگر ایسا ہو تو آپشن ختم کروا دیں باقی معاملہ ٹھیک ہے ان شاءاللہ ۔
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، بارک اللہ فیکم شیخ محترم!
اب خبر یہ ہے کہ انشورنس کے بغیر کوئی بائیک، موٹر سائیکل، گاڑی یا بڑی گاڑی دستیاب نہیں ہوگی، یعنی جب تک انشورنس نہ ہو، گاڑی نہیں ملے گی۔ جیسے بعض جگہوں پر اس طرح کا قانون بنا ہوا ہے۔ اب یہ ممکن نہیں رہا، البتہ ممکن ہے کہ کچھ دکانیں ایسی ہوں جو ابھی تک بغیر انشورنس کے گاڑیاں دے رہی ہوں، لیکن خبر یہی ہے کہ انشورنس کے بغیر کوئی گاڑی دستیاب نہیں ہوگی۔
اگر واقعی ایسا ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے، تو پھر یہ معاملہ گورنمنٹ کے کھاتے میں چلا جائے گا۔
باقی جو وضاحت شیخ محترم نے فرمائی ہے، وہ یہ کہ اپنے ربوی اور سودی معاملات یا غرر والے معاملات کو مختلف نام دے دیے جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے۔ بہرحال، اس معاملے پر غور ہونا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: آمین! وفیک اضعافا مضاعفۃ.
شیخنا طویلب العلم کہلوانے کا بھی شاید حقدار نہیں۔ (و باللہ التوفیق)
ابھی تک سوزوکی موٹر سائیکل کمپنی ڈائریکٹ بنا انشورنس انسٹالمنٹس پر دے رہی ہے اور پراسیسنگ فیس کے نام سے کچھ اضافی رقم وصول کرتی ہے، یا تو وہ اس ٹیم کیلئے جو پھر اس الگ ڈیپارٹ میں کسٹمرز کو دیکھتے اور یا پھر یہ بیع التقسیط کے ضمن میں ہوگا۔۔۔ واللہ اعلم




