سوال 7707
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
موجودہ دور میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں لوگ مختلف کمپنیوں کے حصص خرید کر نفع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تناظر میں آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور اصولِ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً حلال ہے یا حرام؟
نیز، کن شرائط کے ساتھ حصص کی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے، اور کن صورتوں میں یہ سود، غرر یا دیگر شرعی ممانعتوں کی بنا پر ناجائز قرار پاتی ہے؟ بالخصوص موجودہ دور میں رائج اسٹاک ٹریڈنگ کی مختلف صورتوں کا شرعی حکم بھی واضح فرما دیں، تاکہ مسلمان اپنے مال کو حلال طریقے سے بڑھانے اور حرام سے اجتناب کرنے کے حوالے سے درست رہنمائی حاصل کر سکیں۔
جزاکم اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
تفصیلی جواب تو ہمارے مشائخ اور احباب دیں گے۔ من حیث المجموع ہماری گزارش یہ ہے کہ موجودہ اسٹاک مارکیٹ کے نظام میں شیئر ہولڈرز کا معاملہ ہے، لیکن یہ سارا معاملہ صرف ٹرانزیکشن تک محدود رہتا ہے۔ جب چاہتے ہیں ریٹ گرا دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں بڑھا دیتے ہیں۔ اس میں غرر اور دھوکا واضح طور پر پایا جاتا ہے، قمار کی صورت بھی بنتی ہے اور سٹا بھی لگا ہوتا ہے۔ ریٹ گرانے اور بڑھانے کا یہ معاملہ سٹے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ اس میں سود کا پہلو بھی پایا جائے، کیونکہ ہاتھوں ہاتھ سودا ممکن نہیں ہوتا۔ جب کرنسی ایک ہی جنس کی ہو تو لامحالہ ہاتھوں ہاتھ معاملہ ہونا ضروری ہے، جبکہ آن لائن ٹریڈنگ کے نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔
ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ جب غرر، ربا اور قمار آ گئے تو پھر اس کے حلال ہونے کی کیا صورت رہ جاتی ہے؟ یا تو واضح اور شفاف طریقے سے سمجھا دیا جائے کہ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے، لیکن ایسا سمجھانا ممکن نہیں ہے۔
جدید فقہی مسائل کے حوالے سے ایک کتاب غالباً مبشر حسین لاہوری صاحب کی ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ذوالفقار علی طاہر صاحب کی کتاب بھی ہے، اس سے بھی رجوع کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




